Friday, September 30, 2022

امریکی ڈرون حملے میں ہلاک شخص کی شناخت کا عمل جاری ہے : دفترخارجہ

امریکی ڈرون حملے میں ہلاک شخص کی شناخت کا عمل جاری ہے : دفترخارجہ
اسلام آباد (92نیوز) وزارت خارجہ نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ فارن آفس کے مطابق امریکی حکام نے پاک افغان سرحد پر ڈرون حملہ کرنے کا بتایا جس میں افغان طالبان کے سربراہ کو ٹارگٹ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کے مارے جانے کی خبریں میڈیا رپورٹس سے ملیں جبکہ ہفتے کی شام امریکا نے ڈرون حملے سے متعلق معلومات پاکستان سے شئیر کیں۔ بیان کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ پاک افغان بارڈر پر ڈرون حملہ کیا گیا جس میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کو ٹارگٹ کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ نوشکی واقعے سے متعلق دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق ولی محمد ولد شاہ محمد تفتان بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوا۔ اس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ تھا۔ ولی محمد بلوچستان کے علاقے قلعہ عبد اللہ کا رہائشی تھا۔ اس کے پاسپورٹ پر ایران کا ویزہ لگا ہوا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ولی محمد تفتان کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی سے گاڑی کرایہ پر لیکر سفر کررہا تھااور گاڑی پاک افغان بارڈر پر کھوچکی کے نزدیک تباہ شدہ حالت میں ملی۔ گاڑی کے ڈرائیور کا نام محمد اعظم تھا جس کی لاش شناخت کے بعد اس کے رشتہ داروں کے حوالے کردی گئی۔ دوسری لاش کے حوالے سے معلومات کی روشنی میں تصدیق کا عمل جاری ہے۔