Sunday, December 4, 2022

امریکی مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک مسترد کیا، اوباما کا الوداعی خطاب

امریکی مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک مسترد کیا، اوباما کا الوداعی خطاب

واشنگٹن (ویب ڈیسک) باراک اوباما الوداعی خطاب میں آبدیدہ ہو گئے۔ کہتے ہیں امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مسترد کیا۔ ہمیں سیاست میں پیسے کے عمل دخل کو کم کرنا ہوگا۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ بغیر گولی چلائے حل کیا۔ آٹھ برس میں کسی دہشت گرد تنظیم نے حملہ نہیں کیا۔ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ کو انجام تک پہنچایا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے شکاگو میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شعبے میں امتیازی قانون کو ختم کرنا ہوگا۔ نسل پرستی نے ماضی میں ملک کوتباہ کیا، آج بھی یہ مسئلہ موجود ہے۔ انتہا پسندی جمہوریت کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ان کے دور صدارت میں اسامہ بن لادن سمیت سیکڑوں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا۔ داعش کے زیرقبضہ آدھے سے زیادہ علاقہ آزاد کرایا۔ انہوں نے کہا امریکی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش پر نظر رکھنا ہو گی۔ بطور صدر انہوں نے امریکی مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کومسترد کیا۔ داعش اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک امریکی آئین اور اقدار پر عمل پیرا ہیں۔

اوباما نے کہا کہ دس دن کے اندر انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ ٹرمپ سے بھی کہا تھا کہ انتقال اقتدارکا مرحلہ بہتر انداز میں مکمل ہو گا۔ امریکا کو دنیا میں سب سے امیر اور قابل احترام قوم رہنا ہے۔ یکجہتی جمہوریت کا ایک بنیادی تقاضہ ہے۔ تاریخ میں ایسے دن بھی آئے جن سے ملکی یکجہتی خطرے میں پڑگئی۔ آج امریکا کی اقتصادی حالت پہلے سے بہتر ہے۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر پلان سے بہترکوئی منصوبہ بنایا گیا تو اس کی حمایت کرونگا۔ باراک اوباما الوداعی خطاب کے دوران اپنی خدمات اور اہلیہ کے ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔