Wednesday, September 28, 2022

امریکی سپریم کورٹ کا مذہبی امتیاز کا شکار مسلمان خاتون کے حق میں فیصلہ، عیسائی، یہودی اور سکھ برادری کی حمایت

امریکی سپریم کورٹ کا مذہبی امتیاز کا شکار مسلمان خاتون کے حق میں فیصلہ، عیسائی، یہودی اور سکھ برادری کی حمایت
اوکلاہاما (ویب ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ نے حجاب پہننے  پر ملازمت نہ دیئے جانے  کے مقدمہ میں مسلمان خاتون کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے۔ اوکلاہاما کی رہائشی مسلمان خاتون نے سکارف اوڑھنے کی وجہ سے ملازمت دینے سے انکار پر ایبر کرمبی اینڈ فیچ  نامی گارمنٹس کمپنی کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ سمانتھا ایلاف نامی خاتون نے ملازمت دینے سے انکار پر ملازمت کے مساوی مواقع کیلئے کمیشن میں شکایت کی تھی جس پر   کمیشن نے خاتون کے ایما پر سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ لڑکی نے دو ہزار آٹھ میں سترہ سال کی عمر میں تلسا میں گارمنٹس سٹور پر سیلز گرلز کی ملازمت کیلئے درخواست دی لیکن اس کے سکارف کی وجہ سے ملازمت نہ دی گئی۔ سپریم کورٹ کے نو ججوں پر مشتمل جیوری کے آٹھ ارکان نے لڑکی کے حق میں فیصلہ دیا۔ مقدمہ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذہبی عقائد کی بنیاد پر امتیاز سول رائٹس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔  اس کیس میں عیسائی، یہودی اور سکھ برادری نے بھی لڑکی کی حمایت میں کیس پیش کئے۔