Thursday, October 6, 2022

امریکہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے سے باز رہے، او آئی سی

امریکہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے سے باز رہے، او آئی سی

استنبول ( 92 نیوز ) امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر او آئی سی کا اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا ۔ 57 ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم کے نمائندوں اور سربراہان مملکت نے اعلیٰ سطح اجلاس میں اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا ۔
اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق او آئی سی نے امریکہ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے ۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ فیصلہ واپس نہ لینے پر نتائج کا ذمہ دار امریکہ خود ہوگا ۔ او آئی سی امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتی ہے ۔مشترکہ اعلامیہ میں مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالخلافہ قرار دیا ۔
قبل ازیں استنبول میں او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی ان کے ہمراہ تھے ۔
وزیرخارجہ خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے ۔ یہ اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ عالمی روایات اور ریاستی طرز عمل کے خلاف ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے امریکی اعلان کی مذمت کی ہے ۔
ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا کہ فلسطین کو علیحدہ ریاست تسلیم کرائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ فلسطین کو 1967 کی اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت علیحدہ ریاست تسلیم کیا جائے ۔
اسلامی ممالک کے سربراہوں کے اجلاس سے پہلے 57 ممالک کے سربراہوں نے گروپ فوٹو بھی بنوائی۔