Friday, December 3, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

امریکا نے ڈرون حملوں کے جواز بارے ”رہنما اصول“ پبلک کر دیے

امریکا نے ڈرون حملوں کے جواز بارے ”رہنما اصول“ پبلک کر دیے
August 7, 2016
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی انتظامیہ نے ڈرون حملوں کے بارے میں فیصلے کے طریقہ کار کے بارے میں خاموشی توڑ دی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈرون طیاروں کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنانے کا طریقہ کار بھی پبلک کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اوباما انتظامیہ کی جانب سے شائع کردہ تازہ دستاویز کے مطابق اگر امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے وکلاءاور دیگر شعبے مجوزہ حملوں کو قانون کے مطابق ہونے پر متفق ہوں تو اس پر عمل کیا جاتا ہے اور اگر وہ متفق نہ ہوں یا کارروائی کا ہدف کوئی امریکی ہو تو معاملہ صدر کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ادارے، محکمہ دفاع اور سی آئی اے کسی شخص کو امریکا کے لیے خطرہ محسوس کریں تو وکلاءکی مشاورت سے حملے کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔ صدر اوباما کی جانب سے اٹھارہ صفحات پر مشتمل ان قوانین کو پلے بک یا صدارتی پالیسی کا نام دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق حملے کے لیے ضروری ہے کہ ہدف امریکیوں کے لیے خطرہ ہو اور اس کے خلاف کارروائی میں عام شہریوں کی جانیں جانے کا کوئی امکان نہ ہو۔ یہ دستاویز فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت امریکی سول لبرٹیز یونین کی جانب سے عدالتی چارہ جوئی کے نتیجے میں شائع کی گئی ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ رپورٹ اس بات کی عکاس ہے کہ صدر اوباما چاہتے ہیں دہشت گردی کےخلاف جنگ میں کیے جانے والے اقدامات شفاف ہوں اور امریکی عوام ان اقدامات کے نتائج سے باخبر رہیں۔ دستاویز میں پاکستان کے قبائلی علاقوں، صومالیہ، لیبیا اور شام میں کیے جانے والے امریکی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔