Friday, September 30, 2022

  الیکشن کمیشن نے فارم 15 سے متعلق 80 فیصد تفصیلات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیں

   الیکشن کمیشن نے فارم 15 سے متعلق 80 فیصد تفصیلات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیں
اسلام آباد(92نیوز)جوڈیشل کمیشن کوالیکشن کمیشن کے وکیل  سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے فارم 14 اور 16 اور 17 کی مکمل تفصیلات جمع کرادی ہیں،جبکہ فارم 15 کا اسی فیصد ریکارڈ بھی جمع کرایا جا چکا ہے، صرف چند سوفارم مسنگ ہیں۔ ق لیگ کی درخواست پر بلائے گئے سات ریٹرننگ افسران نے خالدرانجھا کی جرح پر بتایا کہ انھوں نے حتمی رزلٹ مرتب کرنے سے پہلے تمام امیدواروں کو نوٹسز بھجوائے تھے، تاہم کچھ کے نمائندے شریک ہوئے کچھ کےنہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام غلط ہے کہ انھوں نے امیدواروں کو آگاہ نہیں کیا۔ نوٹسز کا ریکارڈ بھی موجود ہے،  جماعت اسلامی کے گواہان راجہ عارف سلطان  منہاس،محمد حسین محنتی نے بتایا کہ کراچی میں پولنگ اسٹیشنزپر متحدہ کا قبضہ تھا،ربڑ کے انگوٹھوں کی مدد سے  جعلی ووٹ کاسٹ کئے جارہے تھے، اس سلسلہ میں ایف آئی آرز اور شکایات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ صاحبزادہ ہارون رشید نے بتایا کہ فاٹا میں الیکشن اس وقت کے گورنر نےکرائے،گورنر شوکت اللہ کے والد میرے مقابلے میں امیدوار تھے ، گورنرکےماتحت پولیٹیکل ایجنٹ آراوز تھےجبکہ ملک میں آراوز عدلیہ کے لیے گئے تھے پولنگ کے دن گورنر سرکاری ہیلی کاپٹر پر باجوڑ آئے، انتخابی عملہ اور پولنگ پر اثر انداز ہوئے،اور سرکاری ہیلی کاپٹر میں واپس چلے گئے۔ حفیظ پیرزادہ نے کمیشن سے استدعا کی کہ کمیشن کے اجلاس میں دو یا تین روز کا وقفہ کیا جائے تاکہ وہ فارم 15 کی رپورٹ کا جائزہ لے کر حتمی دلائل کی تیاری کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کھبی بھی ریٹرننگ ا فسران کو بلوانے کا مطالبہ نہیں کیا، 1 لاکھ 40 ہزار فارم 15 تحقیقات میں مددگار ہوں گے ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے تمام سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی کہ وہ  فارم 15 کی رپورٹ کا جائزہ لیں،بی این پی مینگل اور بی این پی عوامی نے بلوچستان سے بھی گواہوں کو بلانے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ  ہمارا دائرہ کار بھی محدود ہے،اگر ضرورت پڑی تو بلوالیںگے،بعد میں کمیشن کا اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔