Monday, September 26, 2022

الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی ڈیمانڈ سے متعلق تحریری جواب جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیا

الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی ڈیمانڈ سے متعلق تحریری جواب جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیا
اسلام آباد(92نیوز)انکوائری کمیشن کے رو برو الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی ڈیمانڈ سے متعلق تحریری جواب جمع کرادیا،پرنٹنگ کارپوریشن کے  مطابق 81 لاکھ سے زائد بیلٹ پیپرز کی نمبرنگ اور بائنڈنگ کے لئے لاہور سمیت مختلف شہروں سے افرادی قوت حاصل کی۔ تفصیلات کے مطابق انکوائری کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں شروع ہوا تو الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے  گواہ ڈپٹی ڈائریکٹر الیکشن کمیشن پنجاب عبد الوحید  پر جرح کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ پیپرز کی تعداد سے متعلق تین فہرستیں بنانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ عبدالوحید نے کہا کہ پہلی تیار کردہ فہرست میں تضاد کی بنیاد پر نظر ثانی کی۔ تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ  نےجرح میں پوچھا کہ بیلٹ پیپرز کی ابتدائی ڈیمانڈ کس نے تیار کی؟  عبد الوحید نے کہا کہ20 اپریل کو بیلٹ پیپرز کی ابتدائی ڈیمانڈ کی فہرست میں نے مرتب کی۔ مینجر پرنٹنگ کارپوریشن اسلام آباد فضل الرحمان نے بتایا کہ پاکستان پوسٹ پریس نے 41 لاکھ 91 ہزار8 سو بیلٹ پیپرز بغیر بائنڈنگ اور نمبرنگ کے بھجوائے تھے ،ق لیگ کے وکیل خالد  رانھجا نے  کہا کہ منظم دھاندلی ہوئی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ  اگر ہم نے انھیں بلوالیا تو بات ٹرم آف ریفرنس سے باہر نکل جائے گی، خالد رانجھا نے جواب میں  کہا کہ  ہر دفعہ دھاندلی ہوتی رہی ۔ جسٹس امیر ہانی  مسلم نے کہا کہ فارم 15 کے حصول کے لیے جوڈیشل افسران کو شامل نہ کرنے کا کہا گیا تھا، مگر آپ کے اصرار پر انھیں نگران اتھارٹی مقرر کیا گیا۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا اگر بات کرنی ہے تو آپ کو ثبوت بھی لانا پڑیں گے،خالد رانجھا نے کہا کہ اس وقت کے صدر آصف زرداری نے بھی الیکشن کو آراوز کا الیکشن قراردیا تھا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آپ  سابق صدر کو بھی بطور گواہ بلوالیں۔ خالد رانجھا نے کہا کہ این اے 104 سے چوہدری وجاہت سمیت سولہ گواہ پیش کرنا  ہیں، جس پر کمیشن نے انھیں ان گواہوں کو جمعہ کے روز پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔