Sunday, January 23, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

اقوامِ متحدہ نے فلسطین میں یہودی بستیوں کیخلاف قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی

اقوامِ متحدہ نے فلسطین میں یہودی بستیوں کیخلاف قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی
December 24, 2016

جنیوا (ویب ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطین میں یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ امریکا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سلامتی کونسل میں آٹھ سال بعد اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد منظورہوئی ہے۔ اسرائیل نے قرارداد مسترد کر دی۔ فلسطینی انتظامیہ نے قرارداد کی منظوری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے یومِ فتح قرار دے دیا۔

قرارداد اقوامِ متحدہ میں نیوزی لینڈ، ملائیشیا، وینزویلا اور سینی گال کی جانب سے پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بنانے سے روکا جائے۔ پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے چودہ ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکا نے قرارداد کو ویٹو کرنے کی بجائے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔

اس سے پہلے نومنتخب صدر ڈونلڈٹرمپ کی مداخلت پرمصر کی جانب سے پیش کردہ اسی قرارداد کوموخرکردیا گیا تھا۔ اسرائیل نے امریکا سے قرارداد کو ویٹوکرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ماضی میں امریکا نے ایسی قراردادوں کو ویٹوکرکے اسرائیل کی مددکی تھی تاہم اوباما انتظامیہ نے روایتی امریکی پالیسی چھوڑ کر اس مرتبہ اس قرارداد کو منظور ہونے دیا۔

اس موقع پراقوام متحدہ میں امریکی سفیرسمینتھا پاول کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد زمینی حقائق کی عکاسی کرتی ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی بستیوں کا مسئلہ بدترہوچکا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں سلامتی کونسل میں اسرائیل کےخلاف اور فلسطینیوں کے حق میں منظور ہونے والی یہ پہلی قراردادتھی۔ اسرائیل کی یہودی بستیوں کوجنرل اسمبلی، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اوربین الاقوامی ریڈکراس بھی غیرقانونی قراردے چکی ہیں۔ اسرائیل اب تک 140 بستیاں تعمیر کرچکا ہے جن میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی رہتے ہیں۔