Tuesday, October 4, 2022

افغان طالبان کا افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان

افغان طالبان کا افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان
کابل ( 92 نیوز) افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے باوجود افغان فورسز کیخلاف کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ، طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی تک افغان حکومت سےکسی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے۔ ترجمان افغان طالبان  ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکا کیساتھ تاریخی معاہدے سے قبل جو 7 روزہ عارضی جنگ بندی کی گئی تھی  ، اس  کا دورانیہ اب ختم ہوچکا ہے لہٰذا افغان فورسز کیخلاف اپنی معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کررہے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا دوحہ معاہدے کے مطابق غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے البتہ افغان فورسز کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ترجمان طالبان نے قیدیوں کی رہائی تک کابل حکومت کیساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امن معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ  دس  مارچ تک طالبان کے 5 ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا، اگر ایسا کردیا جاتا ہے تو ہی طالبان آئندہ مرحلے میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ طالبان کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر کا کہنا تھا کہ سات روزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت  تشدد میں کمی حوصلہ افزا تھی۔ امریکا اپنے  وعدوں کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور توقع کرتے ہیں کہ طالبان بھی اپنے وعدوں پر پورا اتریں گے ۔