Monday, October 3, 2022

افغان صدر قیدیوں کے تبادلے پر فراخ دلی سے غور کریں ، شاہ محمود قریشی

افغان صدر قیدیوں کے تبادلے پر فراخ دلی سے غور کریں ، شاہ محمود قریشی
اسلام آباد (92 نیوز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی قیدیوں کے تبادلے پر فراخدلی سے غور کریں ، امن کا راستہ آسان نہیں ہوتا ، امید ہے فریقین معاہدے پر پختگی سے قائم رہیں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ  افغان صدر  اشرف غنی قیدیوں کے تبادلے پر فراخدلی سے غور کریں ، قیدیوں کا تبادلہ یکطرفہ نہیں ہو گا دونوں جانب سے قیدی رہا کیے جائیں گے،پاکستان اور افغانستان  کے درمیان  امریکہ کی ثالثی قابلِ قبول نہیں ، افغانستان میں کسی پاور گیم کا حصہ کبھی نہیں بنیں گے،  پاکستان نے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے درست فیصلے کیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ   دیرپا امن کے لیے افغانستان میں سوچ کو لچکدار رکھنا ہو گا، دنیا کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے تشدد میں مسلسل کمی کی ضرورت ہو گی ،دنیا بدلی ہے، افغانستان بدلا ہے ،  فریقین کو کہتا ہوں تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ برطانوی ادارے کو انٹر میں  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکہ اور عالمی برادری کو اسپائلرز پر نظر رکھنا ہو گی،کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ امن معاہدے پرپیش رفت ہو ، پاکستان کا افغانستان کے معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے، موجودہ صورتحال میں بھارت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ دوحہ میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں پانچ ہزارطالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم  افغان  صدر اشرف غنی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان  معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی فیصلے کو فریقین میں اعتماد کی بحالی کی جانب کوشش کے طور پر دیکھتا ہے، ماضی میں بھی قیدیوں کے تبادلے ہوتے رہے ہیں،اگر یہ تبادلہ ماحول کو سازگار بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے اشرف غنی کو فراخدلی سے اس پر غور کرنا چاہیے۔ ایک سوال پر کہ کیا پاکستان  بین الافغان بات چیت میں اختلافات کی صورت میں سہولت کاری کا کردار ادا کرے گا؟، شاہ محمود قریشی  کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے  افغانستان کی زیرقیادت اور حمایت یافتہ امن عمل  کی حمایت کرتا آیا ہے لیکن مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور افغانستان میں امریکا کی ثالثی کو ناقابل قبول قرار دیا اور  افغانستان کوسفارتکاری کے ذریعےبات چیت کی دعوت دی ۔ شاہ محمود قریشی نےکہا کہ مقبوضہ کشمیر میں  لاک ڈاؤن برقرار ہے، بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں  بھارت کیساتھ  کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جاسکتی ۔