Friday, December 3, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

افغانستان کیلئے بھارتی گندم کی نقل وحمل پر غور کرینگے، وزیراعظم عمران خان

افغانستان کیلئے بھارتی گندم کی نقل وحمل پر غور کرینگے، وزیراعظم عمران خان
November 12, 2021 --- ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) وزیراعظم عمران خان سے قائم مقام افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، عمران خان نے کہا افغانستان کیلئے بھارتی گندم کی نقل و حمل پر غور کریں گے۔

وزیراعظم نے اپنے ملک کو درپیش سنگین چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے افغانستان اور افغان عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور خطے کے لیے پرامن، مستحکم، خودمختار، خوشحال اور منسلک افغانستان کی اہم اہمیت پر زور دیا۔

اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی اور پرعزم انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں، تمام افغانوں کے حقوق کا احترام، اور نظم و نسق اور سیاست میں شمولیت افغانستان کے استحکام میں مزید معاون ثابت ہوگی۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ عبوری افغان حکومت تعمیری طور پر بین الاقوامی برادری سے منسلک رہے گی اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مثبت اقدامات کرتی رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل افغانستان کے لیے فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو جاری کرنے اور معاشی بدحالی کو روکنے کے لیے بینکنگ لین دین میں سہولت فراہم کرنے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے آنے والے سردیوں کے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ممکن مدد فراہم کرتے ہوئے افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ پہلے سے دی گئی امداد کے علاوہ، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے لیے ضروری غذائی اشیاء بشمول گندم اور چاول، ہنگامی طبی سامان اور پناہ گاہ کی اشیاء فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم نے آگاہ کیا کہ موجودہ تناظر میں پاکستان انسانی ہمدردی کے مقاصد اور طریقہ کار کے مطابق غیر معمولی بنیادوں پر پاکستان کے راستے بھارت کی طرف سے پیش کردہ گندم کی نقل و حمل کے لیے افغان بھائیوں کی درخواست پر احسن طریقے سے غور کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے عوام کی نقل و حرکت، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کی سہولت کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔