Sunday, September 25, 2022

افغانستان بارے انسانی ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائے، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کا اعلامیہ

افغانستان بارے انسانی ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائے، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کا اعلامیہ
December 19, 2021 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) افغانستان سے متعلق انسانی ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائے، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل او آئی سی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کیلئے غذائی تحفظ پروگرام تشکیل دیا جائے گا، مالیاتی چینلز کھولے جائیں گے اور نمائندہ خصوصی مقرر کیا جائے گا۔ افغانستان کو کورونا کے تناظر میں ویکسین اور طبی امداد دی جائے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس کے شرکاء کے شکرگزار ہیں۔ سیکرٹری جنرل او آئی سی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ او آئی سی سیکرٹری جنرل کے تعاون کے بغیر اجلاس کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود نے کہا افغان وفد کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا، او آئی سی اجلاس میں افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ او آئی سی اجلاس میں افغان صورتحال پر تبادلہ خیال اہم پیش رفت ہے۔ کانفرنس کے موقع پر افغان وفد سے متعدد بار ملاقاتیں ہوئیں، افغانستان کے حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی المیے سے بروقت نمٹنے کی ضرورت ہے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا او آئی سی اجلاس میں مرکزی نقطہ چار کروڑ افغان عوام تھے، افغانستان کی صورتحال میں بہتری لانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اجلاس کی پہلی قرارداد میں افغان صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے افغانستان کے لیے غذائی تحفظ کے معاملے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ افغانستان کے لیے او آئی سی کا خصوصی نمائندہ مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکی خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ کے مثبت کے خیالات سنے، امید ہے یہ غیرمعمولی اجلاس ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔ افغانستان کی عوام کی مشکلات پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ افغانستان اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو دستاویزات متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔

شاہ محمود نے کہا افغان عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ٹرسٹ قائم کرنے پر اتفاق ہوا، او آئی سی اور اقوام متحدہ نے افغانستان میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ افغانستان کے بینکنگ چینلز کی بحالی تک امداد کی ترسیل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بھی بات ہوئی ہے، فیصلہ کیا گیا ہے پرائیویٹ بینکوں کو اوپن کردیا جائے تاکہ ان کے ذریعے ترسیل ممکن ہوسکے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا پاکستان نے ہر فورم پر واضح کیا ہے کہ بھارت کا کردار افغانستان میں منفی رہا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے مثبت اقدام اٹھایا اور افغانستان کی امداد کے لیے بھارت کو راستہ دیا۔ بھارت سمجھتا تھا پاکستان راستہ نہیں دے گا اور افغان عوام کی نظر میں شرمندہ ہوگا لیکن ہم نے بھارت کی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ کل ترکمانستان کے وزیرخارجہ سے ملاقات ہوئی، وہ بھارت جارہے تھے، ان سے کہا ہے بھارت سے کہیں اپنے رویے پر نظرثانی کریں اور مثبت رویہ اپنائیں۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی ابراہیم حسین طحہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اجلاس کی میزبانی پر پاکستان کے وزیرخارجہ کے مشکور ہیں، رکن ممالک، پی فائیو، یورپی یونین اور دیگر کی شرکت اجلاس کی کامیابی ہے۔ کامیاب اجلاس کے انعقاد پر پاکستانی وزیرخارجہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ اجلاس انتہائی اہم تھا، اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

ابراہیم حسین طحہ نے کہا کہ یہ صرف ایک دن کی کانفرنس نہیں بلکہ اس کے تاریخی اثرات مرتب ہوں گے۔ اجلاس میں یورپی یونین، امریکا اور برطانیہ سمیت اہم ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک ممالک نے افغان عوام کے لیے امداد کا اعلان کیا۔ افغان بھائیوں کی امداد کے اعلانات سے امید پیدا ہوئی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ موسم سرما کی وجہ سے افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے افغانستان کی مدد کے لیے خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ افغان عوام کی مدد کے لیے اپنے عزم کو ایک بار پھر دہراتے ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم کی وزارتی کونسل کا افغانستان پر17 واں غیرمعمولی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت 70 سے زائد وفود نے شرکت کی۔

او آئی سی کی وزارتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب نے بڑا اعلان کیا۔ سعودی عرب افغانستان کے لئے ایک ارب سعودی ریال کی امداد دے گا۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ سعودی عرب خوراک، ادویہ اور دیگر امداد بھی فراہم کرے گا۔ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے عالمی برادری کو آگے بڑھنا ہو گا۔

ترک وزیر خارجہ میولت چاواشولو نے او آئی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا افغانستان کے لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہیں۔ افغان بہنیں اور بھائی ہم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی ہونگے۔ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اردن کے وزیرخارجہ بولے افغانستان انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سب کو آگے بڑھ کر اسے تھامنا ہو گا۔ پاکستان، سعودی عرب کے او آئی سی اجلاس بلانے پر شکر گزار ہیں۔ افغانستان میں تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ انسداد دہشتگردی کے لئے مثبت اقدامات اٹھانا ہونگے۔

نائجر کے وزیرخارجہ نے کہا ہمیں افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کئے بغیر ہر ممکن مدد کرنا ہو گی۔