Wednesday, January 19, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

افضل گورو کی تیسری برسی پر مقبوضہ کشمیر میں شٹرڈاﺅن ہڑتال

افضل گورو کی تیسری برسی پر مقبوضہ کشمیر میں شٹرڈاﺅن ہڑتال
February 9, 2016
سرینگر (92نیوز) بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں کشمیری رہنما افضل گورو کو پھانسی کے تین سال مکمل ہونے پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ مقبول بھٹ کو بھی قتل کا الزام لگا کر گیارہ فروری انیس سو چوراسی میں دہلی کی تہار جیل میں پھانسی چڑھا دیا گیا تھا۔ مقبول بھٹ جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے شریک بانی تھے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے تمام حریت پسند دھڑوں کی جانب سے ہڑتال کی کال پر آج مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے۔ تمام کاروباری و تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ بھارتی کٹھ پتلی فورسز نے ہڑتال ناکام بنانے کے لئے کشمیری رہنماو¿ں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے اور کئی علاقوں میں نفری بڑھا کر گشت شروع کردیا ہے۔ کشمیری افضل گورو کو تین سال قبل نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی جس کے خلاف کشمیر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے جبکہ مقبول بھٹ پر بھی قتل کا الزام لگا کر گیارہ فروری انیس کو چوراسی کو تہار جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ افضل گورو کا عدالتی قتل بھارتی نظام انصاف اور نام نہاد جمہوریت کے چہرے کا بدنما داغ ہے جسے بھارت تمام تر کوششوں اور جبر کے باوجود چھپا نہیں سکتا۔ افضل گورو کشمیر کا ایک پڑھا لکھا‘ موسیقی اور ادب سے لگاﺅ رکھنے والا نوجوان تھا جسے حالات کے جبر نے حریت پسند بنایا تھا۔ انیس سو نوے میں کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو افضل گورو میڈیکل کالج میں تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ سری نگر کے نواحی علاقہ چھانہ پورہ میں انڈین فورسز نے کریک ڈاﺅن کے دوران متعدد خواتین کو ریپ کا نشانہ بنایا تو افضل کو شدید دھچکا پہنچا اور اس کی سوچ بدل گئی۔ وہ تعلیم چھوڑ کر ظلم اور جبر کی اندھیری رات میں آزادی اور امن کی شمع روشن کرنے کے لیے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شامل ہوا اور مسلح تربیت حاصل کی مگرعلم کی پیاس نے اس کے ہاتھ سے بندوق چھین لی اور وہ ہتھیار ڈال کر دلی یونیورسٹی میں علم کی تشنگی مٹانے پہنچ گیا۔ دلی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کے بعد بینک آف امریکا میں ملازمت کی۔ سات سال بعد وہ اپنے وطن کشمیر آ گیا لیکن بھارتی پولیس کی زیادتیوں نے اس کی سوچ پھر سے بدل دی۔ دو ہزار ایک میں تیرہ دسمبر کو بھارتی پالیمان پر مسلح حملہ کیاگیا اور دو روز بعد افضل، اس کے بھائی اور ان کی اہلیہ افشاں گورو سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ افضل کو قانونی پیروی کا موقع بھی نہ دیا گیا اور بھارت میں انتخابات سے قبل انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت کے بغیر ہی ابدی نیند سلادیا گیا۔ لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کا کہنا ہے کہ آج کل کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان مرنے مارنے پر آمادہ ہیں۔ یہ اسی ہمالیائی ناانصافی کا نتیجہ ہے جو نو فروری دو ہزار تیرہ کو ہوئی۔