Wednesday, September 28, 2022

افضل کوہستانی کے ورثا کا پولیس سے مذاکرات کامیاب ہونے پر احتجاج ختم

افضل کوہستانی کے ورثا کا پولیس سے مذاکرات کامیاب ہونے پر احتجاج ختم
ایبٹ آباد ( 92 نیوز) کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے مدعی افضل کوہستانی کے ورثا نے پولیس سے مذاکرات کامیاب ہونے پر احتجاج ختم کر دیا۔ لاش وصول کرکے آبائی علاقے روانہ کر دی گئی۔ کوہستان ویڈیو منظر عام پر آئی تو ویڈیو میں موجود 5 لڑکیوں اور 3 لڑکوں کو مقامی جرگے نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ قتل ہونے والوں میں افضل کوہستانی کے 3 بھائی بھی شامل تھے۔ افضل کوہستانی نے غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں کی نشاندہی کی تو اس کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ قتل ہونے والی لڑکیوں کا قتل ثابت کرنے میں انہیں 6 سال لگے تھے ۔ اب اس سکینڈل کی آخری آواز کو ایبٹ آباد میں خاموش کر دیا گیا۔ پولیس نے اس قتل میں اس کے بھانجے کو گرفتار کیا تھا۔ افضل کوہستانی کے بھائی کے مطابق بھانجے کو انہوں نے خود افضل کی حفاظت کے لئے ان کے ساتھ بھیجا تھا۔ معاملہ جو بھی ہو پولیس افضل کوہستانی کو تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ کوہستان ویڈیو سکینڈل پر واویلا مچانے والی تنظیمیں اب افضل کوہستانی کے قتل پر خاموش ہیں۔ افضل کوہستانی کے قتل کے بعد ویڈیو سکینڈل کے سارے کردار کے خلاف اب کوئی مدعی نہیں رہا۔ پولیس نے تحفظ نہ دیا۔ افضل نے تحفظ کیلئے کئی بار پولیس کو درخواست دی تھی لیکن سکیورٹی نہ ملی۔ سات سال قبل 2012 میں پیش آنے والا کوہستان ویڈیو اسکینڈل اب تک 7 جانیں لے چکا ہے۔ شادی کی تقریب میں لڑکوں کے ڈانس،لڑکیوں کے تالی بجانے کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد جرگے نے لڑکے اور لڑکیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جرگے کے چند روز بعد ویڈیو میں نظر آنے والی 3 لڑکیوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں ویڈیو میں ڈانس کرنے والے 2 نوجوان بھی قتل کردیئے گئے تھے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے افضل کوہستانی کے قتل کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ملزموں کو کٹہرے میں لائیں گے۔ ادھر ڈی پی او ایبٹ آباد نے کہا کہ وقوعہ سے ایک مشکوک شخص کو پکڑا ہے ، جس سے تفتیش جاری ہے ۔ عباس مجیب مروت کے مطابق گرفتار شخص افضل کوہستانی کا عزیز ہے۔