Tuesday, October 4, 2022

افتخار چودھری نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر لیا

افتخار چودھری نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر لیا
اسلام آباد(92نیوز)سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے وزیراعظم کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے انکی بیماری کو آئینی بحران قرار دے دیا، کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کوما میں جائیں گے تو ملک کون چلائے گا، اسحاق ڈار سینیٹر ہیں حکومت کی نگرانی نہیں کرسکتے ، وزیراعظم استعفیٰ دیں ، وہ آئین کے تحت حکومت کی باگ ڈور کسی کو نہیں دے سکتے۔ تفصیلات کےمطابق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری  نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاید وزیر اعظم کی اوپن ہارٹ سرجری ہوگی انہیں بے ہوش کیا جائے گا،ملک کے چاروں طرف دشمن جمع ہیں ایسے میں حکومت کس کی ہوگی۔ افتخار چودھری نے کہا کہ اس وقت آئینی بحران ہے ، آرٹیکل 90 اور 91 کے تحت وزیراعظم کی سربراہی میں کیبنٹ حکومت کرتی ہے، جبکہ آئین میں وزیراعظم کی جگہ سینئر ترین وزیر کو عارضی طور پر حکومت کی نگرانی دینے کا آرٹیکل 95 ، تھری ترمیم کرکے ختم کردیا گیا ، اس لیے اب سوائے نیا وزیراعظم لانے کے کوئی چارہ نہیں۔ افتخار چودھری کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے حوالے سے کوئی  نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ویسے بھی وہ سینیٹر ہیں نگران وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ خدانخواستہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں کوئی ملک حملہ کردے، یا کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو کیا قوم وزیراعظم کے ہوش میں آنے کا انتظار کرے گی،عارضی طور پر کسی کو اعتماد کا ووٹ لے کر  وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنا ہوگا۔