Tuesday, October 4, 2022

اشتہاری مہم پری پول دھاندلی تھی،عوام کا پیسہ ذاتی خوشامد کیلئے استعمال ہوا،سپریم کورٹ

اشتہاری مہم پری پول دھاندلی تھی،عوام کا پیسہ ذاتی خوشامد کیلئے استعمال ہوا،سپریم کورٹ
اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ میں سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اشتہاری مہم پری پول دھاندلی تھی ۔ عوام کا پیسہ ذاتی خوشامد کیلئے استعمال ہوا جسے واپس کیا جانا چائیے ۔ سرکاری اشتہارات غیر منصفانہ تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ذاتی تشہیر کے لیے پیسہ جیب سے دیں ۔ چار چار منٹ کے اشتہار چلتے رہے ہیں ۔ حکومت کے پیسے سے ایسی تشہیر نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سے ہدایات لیکر بتا دیں کتنے پیسے انہوں نے دینے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا شہباز شریف نے رضا کارانہ طور پر رقم واپسی کا چیک دیا تھا ۔ پچپن لاکھ کا چیک عدالت میں لہرایا تھا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف نے لگتا ہے پوائنٹ اسکورنگ کے لیے چیک لہرایا تھا ،اب شاید شہباز شریف کا دل پیسے دینے کو نہیں مان رہا ۔ وکیل شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ یہ اشتہارات صرف پنجاب میں نہیں بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی چلے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نشاندہی کریں دوسرے صوبوں کا معاملہ بھی دیکھیں گے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا شہباز شریف کا چیک واپس کریں تاکہ سند رہے ۔