Thursday, October 6, 2022

اسلام آباد، 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنے پر اتفاق

اسلام آباد، 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنے پر اتفاق

اسلام آباد (92 نیوز) اسلام آباد میں 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس اسپیکرز کانفرنس میں افغانستان،ترکی ،ایران ،روس اورچین کےاسپیکرز نے شرکت کی۔
صدر مملکت ممنون حسین اور چیئرمین سینیٹ بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ دنیا میں دہشتگردی سے اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام شریک ملکوں میں تاریخی تعلقات ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی ڈپلو میسی سے چیلنجز کا مقابلہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ دہشتگردی سے پاکستان کو اب تک 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزیں پاکستان ، ترکی اور ایران میں ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ دنیا کی آدھی کپاس چین اور پاکستان میں پیدا ہوتی ہے۔ آپس کے اختلافات سے ترقی کا عمل رکنا نہیں چاہیے۔
ایاز صادق نے کہا کہ کانفرنس میں شریک تمام ممالک دہشتگردی کو ہرشکل میں مسترد کرتے ہیں۔ اسپیکرز کانفرنس کو فارم کی شکل میں ہر سال ہونا چاہیے۔
چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس میں صدر ممنون حسین نے اپنے خطاب میں تمام ممالک کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی نے خطے کے ممالک کے لئے مسائل پیدا کئے۔ پاکستان کے اقدامات سے دہشتگردوں کی کمر توٹ چکی ہے۔
دوسری طرف چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ بیت المقدس معاملے پر جنرل اسمبلی میں امریکہ کو جواب مل گیا۔ پاکستان اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریگا۔ امریکہ افغانستان میں شکست کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہا ہے۔
ادھر اسپیکر ایاز صادق نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔ منشیات کی تجارت پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔گزشتہ 10 سال میں دہشت گردوں سے دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں۔
کانفرنس سے خطاب میں ایرانی اسپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ خطے میں امریکی مہم جوئی روکنا ہو گی۔
ادھر روسی اسپیکر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بین الپارلیمانی تعاون کی ضرورت ہے جبکہ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے وائس چیئرمین بولے کہ چین تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔