Sunday, December 4, 2022

اسلام دنیا میں سب سے بڑا اور تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن گیا: امریکی اخبار

اسلام دنیا میں سب سے بڑا اور تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن گیا: امریکی اخبار
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا اور تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ کیتھولک رہنما مارسینیو فارمینٹی نے امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اسلام عیسائیت پر غالب آ گیا ہے۔ کیتھولک دنیا کی آبادی کا سترہ اعشاریہ چار فیصد جبکہ مسلمان انیس اعشاریہ دو فیصد حصہ ہیں جس کی وجہ مسلمانوں کی شرح پیدائش میں مسلسل اضافہ ہے۔ رومن کیتھولک عیسائی دنیا میں آبادی کے لحاظ سے کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی سینئر سرجن رتھس نے بھی گزشتہ برس اسلام قبول کر لیا اور گزشتہ برس کے دوران پانچ ہزار دو سو برطانوی باشندے عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئے جبکہ دس برسوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ برطانوی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے جو برطانیہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں باسٹھ فیصد تعداد خواتین کی ہے جن کی اوسط عمریں ستائیس سال ہیں۔ دائرہ اسلام میں آنے کے بعد ان خواتین نے شعار اسلام کو اپنایا اور حجاب اور اسکارف کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیا۔ بعض یورپی ممالک نے حجاب پہننے پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن برطانیہ میں ایسا نہ ہونے کے باوجود غیرمسلموں کے تیزی سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے پس پردہ کیا محرکات ہیں۔ اسلام کے پوری دنیا سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق فراہم کرنے والا مذہب ہے۔ اسلام انسان کو ایک متوازن، خوشحال اور آسان زندگی گزارنے کے رہنما اصول بتاتا ہے۔ امریکی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب ”دی ون ہنڈرڈ“ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی سب سے بااثر ترین شخصیت قرار دیا ہے۔ مائیکل ہارٹ نے لکھا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں پہلا نمبر ہے۔ یہ دنیا کے دوسرے رہنماوں کےلئے حیران کن ہوگا اور سوال بھی اٹھیں گے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ میں وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے مذہبی اور سیکولر سطح پر کامیابیاں سمیٹیں۔ دنیا کے کئی دانشور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں سے متاثر ہیں اور انہوں نے اپنی تصانیف میں اس کا اظہار بھی کیا ہے۔ معروف فرانسیسی تاریخ دان نمرتھین نے اپنی کتاب ”ہسٹری آف ترکس“ میں لکھا ہے کہ مقصد کی عظمت اور غیرمعمولی نتائج ایک ذہین انسان کا خاصہ ہوتے ہیں لیکن جدید تاریخ کی کسی عظیم شخصیت کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے موازنہ کرنے کی ہمت کون کر سکتا ہے۔ جرمن سائنسدان، دانشور، مصور اور شاعر وولف کین گرٹر کا کہنا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہیں نہ کہ شاعر اور اسی لیے قرآن مجید قانون الٰہی ہے کوئی انسانی کتاب نہیں جو تعلیم یا تفریح کے لیے بنی ہو۔ بھارتی رہنما مہاتما گاندھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنے خیالات یوں بیان کرتے ہیں کہ ” سیرت النبی کے مطالعے سے میرے اس عقیدے میں مزید پختگی اور استحکام آگیا کہ اسلام تلوار کے بل پر غالب نہیں آیا بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی بے نفی، عمود و مواثیق کا انتہائی احترام، اپنے رفقاءاور پیروکاروں کے ساتھ گہری وابستگی ، جرات، بے خوفی ،اللہ تعالیٰ اور مقصد و نصب العین پر کامل بھروسہ حقیقی اسباب تھے۔