Monday, December 5, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ کی نومسلم لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت

اسلام آباد ہائیکورٹ کی نومسلم لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت

اسلام آباد (92 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھوٹکی کی نو مسلم لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو لڑکیوں اور ان کے شوہروں کی حفاظت کا پابند بھی بنایا ہے۔ عدالت عالیہ نے انکوائری کمیشن کو 14 مئی تک اپنی رپورٹ اور حتمی سفارشات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کےدوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیس میں کیا پیشرفت ہوئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی آچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق  آسیہ کی عمر انیس  اور نادیہ کی  18 برس ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے عدالت میں بیان دیا کہ لڑکیوں سے زبردستی اسلام قبول نہیں کروایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ لڑکیوں کو شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ثابت ہوگیا کہ دونوں لڑکیاں بالغ ہیں اور زبردستی اسلام قبول بھی نہیں کرایا گیا۔ اقلیتوں کی تسلی کیلئے یہ کام کمیشن کو سونپا تھا۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے لڑکیوں کو شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے سماعت چودہ مئی تک ملتوی کر دی۔

 گھوٹکی سے لا پتہ ہونیوالی دو لڑکیوں نے تحفظ کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ  سے رجوع کیا تھا۔ دونوں بہنوں نے اپنے خاوند برکت علی اور صفدر  کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی کہ  میڈیا میں غلط پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

 درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ غلط پراپیگنڈے کے باعث  دونوں بہنوں اور ان کے شوہروں کو جان کے خطرات ہیں ،  عرصہ دراز سے اسلامی تعلیمات سے متاثر تھیں ، جان سے مارنے کے خوف سے قبول اسلام  کا اعلان نہیں کیا۔

 درخواست میں کہا گیا تھا کہ 23 مارچ 2019 کو خانپور بار کے سامنے باقاعدہ اسلام قبول کرنے کا اعتراف کیا ، عدالت تحفظ کے لئے اقدامات کا حکم دے۔

درخواست میں وزارت داخلہ ،وزیراعلیٰ سندھ ، آئی جی پولیس پنجاب اور سندھ ودیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔