Sunday, September 25, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ کا چین میں پھنسے طلبہ کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث لانے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا چین میں پھنسے طلبہ کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث لانے کا حکم
اسلام آباد ( 92 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چین میں پھنسے طلبہ کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیربحث لانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے  کہ پالیسی معاملہ ہے عدالت براہ راست مداخلت نہیں کرسکتی، حکومت کو والدین سے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ وہ بچوں کو واپس نہیں لائیں گے، پریس کانفرنس کرتے ہوئے والدین بولے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں پاکستان کی سرزمین پر لایا جائے۔ چینی شہرووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے  کی، طلبہ کے والدین عدالت  پیش ہوئے، دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل نے دلائل دیے  کہ ووہان میں طلبہ کےلیے کھانے پینے کا شدید مسئلہ ہے، حکومتی عہدیداروں نے کہا کہ طلبہ کوواپس نہیں لاسکتے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے  کہ عدالت والدین کی پریشانی سمجھ سکتی ہے آخر وہ والدین ہیں، وفاقی کابینہ نمائندہ مقررکرے جووالدین کے تحفظات کوسنے اور حکومت اس پر کوئی فیصلہ لے، وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ جن والدین کے تحفظات ہیں وہ انہیں اپنے بچوں کا نام بتائیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ طلباء کاچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھا گیا خط وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی ۔ والدین نے پریس کانفرنس  کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے پھنسے ہوئے ہیں، حکومت کچھ نہیں کررہی۔ والدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک حکومت معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھے گی، خاموش نہیں بیٹھیں گے اگر کسی بچے کو وائرس آ گیا تو ہم  صدمے سے مر جائیں گے۔