Tuesday, September 27, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ کا مذہبی جماعتوں کو دھرنا ختم کرنیکاحکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا مذہبی جماعتوں کو دھرنا ختم کرنیکاحکم

اسلام آباد ( 92 نیوز ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے مذہبی جماعتوں کو دهرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ دھرنے کے متعلق دونوں درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی ۔ تحریک لبیک نے تحقیقاتی رپورٹ سامنے لانے کی استدعا کی تھی ۔ دوسری جانب تحریک لبیک کا ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے معاملے پر دھرنا جاری ہے ۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ دھرنا ختم کرنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ اجلاس میں کریں گے ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مذہبی جماعتوں کو دھرنے ختم کرنے کا حکم دے دیا ۔ قانون کے حرکت میں نہ آنے پر آئی جی اور چیف کمشنر کو 20 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
ختم نبوت حلف نامے میں ردوبدل کےخلاف تحریک لبیک پاکستان اور عالمی ختم نبوت تنظیم کی درخواستیں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الگ الگ سماعت کی ۔
عدالت کا تحریری حکم نامہ 92نیوز نے حاصل کرلیا ۔ عدالت نے حکم دیا کہ دھرنا مظاہرین قانون کا احترام کرتے ہوئے دھرنا ختم کریں ۔ دھرنے کے باعث سڑکیں بند ہونے سے عوام کومشکلات درپیش ہیں ۔ سرکاری ملازمین اور سکول جانے والے طلبہ کو بھی پریشانی کا سامنا ہے ۔ عدالت توقع کرتی ہے کہ درخواست گزار اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کا احترام کریگا ۔ عدالت نے دونوں درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے سماعت 29نومبر تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب دھرنے کےخلاف شہری عبدالقیوم کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ چیف کمشنر اور آئی جی پولیس نے مختص کردہ مقام پریڈ گراﺅنڈ کی بجائے مظاہرین کو فیض آباد میں دھرنے کی اجازت کیوں دی؟۔ حکومتی رٹ کی عملداری کے لیے قانون حرکت میں کیوں نہیں آیا۔ عدالت نے فریقین کو 20نومبر کیلئے نوٹس جاری کردیئے ۔
عدالت نے آئی جی پولیس اور چیف کمشنر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا جبکہ وزارت داخلہ کے نمائندے کو بھی پیش ہونے کا حکم دیدیا۔