Friday, October 7, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ نے احسن اقبال کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے احسن اقبال کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد (92 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر تے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ دھرنا کیس میں حساس اداروں کے سربراہان ڈی جی آئی بی اور آئی ایس آئی کےسیکٹر کمانڈر بھی طلب کر لیے۔ عدالت نے تین دن میں دھرنے کی جگہ خالی کرانے کا حکم دے دیا۔
عدالتی حکم کے باوجود تا حال دھرنہ ختم نہ کرانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ برہم ہو گئی۔ سیکریٹری داخلہ کو ظفر الحق رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔ دوران سماعت سیکٹری داخلہ چیف کمشنر عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے دھرنہ ختم کرانے کے حوالے سے استفسار کیا جس پر چیف کمشنر نے بتایا کہ ہمیں حکومت نے اقدام اٹھانے سے روکا ہوا ہے۔
اس پر وزیر داخلہ نے عدالت میں بھی کہا کہ ہم نے اس لیے روکا ہوا ہے کہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وفاقی وزیر بلکہ وزیر اعظم بھی عدالت کے حکم کے خلاف کیسے جا سکتا ہے؟۔
دوران سماعت سیکریٹری داخلہ عدالت سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ کچھ چیزیں یہاں نہیں بتا سکتا آپ چیمبر میں بلائیں گے تو تحریری طور پر بتا دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت پیش آئی ریاست پوری طاقت کا استعمال کرے گی۔ ہم ریاست کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے سب کچھ کر رہے ہیں۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت یہ لائسنس نہیں دے سکتی کہ سیدھی سیدھی گولیاں مارنی شروع کر دیں۔ آدھے سے زیادہ لوگ تو آنسو گیس کے شیلز سے ہی بکھر جائیں گے۔ ختم نبوت صرف چند لوگوں کی نہیں پوری امت کی میراث ہے۔ ختم نبوت پر شاید قربانی کا وقت آئے تو مولوی کم ہونگے۔ عام لوگ زیادہ ہونگے۔ ریاست کی رٹ کو بر قرار رکھنے کے لیے تمام تر عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ وزیر داخلہ کے خلاف شو کاز نوٹس واپس لے لیں جس پر عدالت نےڈپٹی اٹارنی جنرل کو جواب دیا کہ آپ وزیر کے ملازم  ہیں یا وفاق کے۔