Friday, February 3, 2023

اسلام آباد ہائیکورٹ، مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو خود جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کرنیکی ہدایت

اسلام آباد ہائیکورٹ، مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو خود جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کرنیکی ہدایت

اسلام آباد (92 نیوز) انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کو خود جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ ضلعی عدالتیں کبھی کسی کی ترجیحات میں شامل نہیں رہیں۔

انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ دوران سماعت مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کو مخاطب کرکے ریمارکس دئیے کہ ڈسٹرکٹ کورٹس اور احتساب عدالتوں کے ججز کے پاس سٹاف تک پورا نہیں، بعض خود فیصلہ ٹائپ کرتے ہیں۔ ججز دن رات کام کرنے کو تیار ہیں لیکن ان کے پاس بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سفارش کے کلچر نے ہر چیز تباہ کر کے رکھ دی ہے اور ایسا ایک رات میں نہیں ہوا، چالیس سال سے کسی نے توجہ نہیں دی۔ وزیراعظم جوڈیشل کمپلیکس کا چکر لگا کر انکی حالت دیکھیں، عدالت امید کرتی ہے کہ وزیراعظم جوڈیشل فورمز پر توجہ دینگے۔

شہزاد اکبر نے عدالتوں کی حاؒت بہتر بنانے کی یقین دہائی کرائی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اب آپ نے ذمہ داری لے لی ہے تو امید ہے یہ کام ہو جائیں گے۔ اگر نہیں ہوتا تو پھر عدالت کو فیصلہ دینا پڑیگا اور حکومت اس پر عملدرآمد کی پابند ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ضلعی عدالتیں پرائیوٹ کمرشل عمارتوں میں بنی ہیں اور ان عمارتوں کے مالکان کو کرایہ تک ادا نہیں کیا جا رہا
اس معاملے کو بھی دیکھ لیجیے گا۔ دوران سماعت چیف جسٹس کا وفاقی دارالحکومت میں زمینوں کے قبضوں سے متعلق کیسز کا بھی تذکرہ
ریمارکس دئیے کہ ریونیو افسران کی مرضی کے بغیر ایسا نہیں ہوتا
بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف کی فوری فراہمی کا عمل موجود نہیں
گورننس سسٹم کرپٹ ہو چکا۔

اسلام آباد کے 1400 اسکوائر میل کے علاقہ میں قانون کی حکمرانی نہیں
قبضہ مافیا کی سفارش پر تو ایس ایچ او، تحصیل دار اور دیگر عہدوں پر تعیناتیاں ہوتی ہیں۔ اسلام آباد میں زمینوں پر قبضے کا ایک بھی کیس ناقابل برداشت ہے۔ کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔