Tuesday, October 4, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ، احسن اقبال نے دھرنا ختم کرانے کیلئے 2دن کی مہلت مانگ لی

اسلام آباد ہائیکورٹ، احسن اقبال نے دھرنا ختم کرانے کیلئے 2دن کی مہلت مانگ لی

اسلام آباد ( 92 نیوز )اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرنا ختم نہ کرانے پر آئی جی اور کمشنر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ۔3 صفحوں پر مشمتل تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ 8 لاکھ شہریوں کو دھرنا شرکا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے مزید 48 گھنٹوں کی مہلت مانگ لی۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے کےخلاف درخواست کی سماعت کی ۔ وزیرداخلہ احسن اقبال اور سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوئے۔
فاضل جج نے احسن اقبال سے استفسار کیا کہ ابھی تک عدالتی حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا ۔ احسن اقبال نے جواب دیا کہ مختلف مذہبی جماعتوں نے مدد کےلئے حکومت سے رابطہ کیا ہے ۔ انہوں نے عدالت سے مزید 48گھنٹے مانگ لئے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالت مذہبی گروپ ہے نہ سیاسی ۔ جج لوگوں کے حقوق کیلئے یہاں بیٹھے ہیں ۔ عدالت قانون سے ہٹ کر کوئی حکم نہیں دیتی ۔ ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے ۔ 2 دن لیں یا 3دن نتائج کے ذمے دار آپ خود ہوں گے ۔
دوران سماعت فاضل جج نے یہ بھی کہا کہ 8 لاکھ آبادی کے حقوق کو ہائیکورٹ نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ یہاں تاجروں ، طلباء اور مریضوں کا کیا قصور ہے؟ ۔ یہ سارا معاملہ اسلام آباد انتظامیہ کی نااہلی اور ملی بھگت سے ہوا ہے ۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی کچھ باتیں کھلی عدالت میں نہیں بتا سکتے ۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا جو کہنا ہے عدالت میں کہیں ۔ آپ نے یہی کہنا ہوگا کہ ان کے پاس ہتھیارہیں ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دھرنا ختم کرانے کے لیے مذاکرات کے سوا کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔ یہ عدالتی اختیارات کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ اسلام آباد انتظامیہ کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔
عدالت نے احکامات پر عملدر آمد نہ ہونے پر آئی جی اور کمشنر کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23نومبر تک ملتوی کردی ۔