Sunday, September 25, 2022

اسلام آباد میں قیام امن کیلئے فوج طلب، نوٹیفکیشن میں متعدد غلطیاں

اسلام آباد میں قیام امن کیلئے فوج طلب، نوٹیفکیشن میں متعدد غلطیاں

اسلام آباد( 92 نیوز ) حکومت نے اسلام آباد میں قیام امن کیلئے فوج طلب کر لی مگر جلدبازی میں فوج کی طلبی کے نوٹیفکیشن میں متعدد غلطیاں سامنے آگئیں ۔ پاک فوج نے حکومت سے کچھ نکات کی وضاحت طلب کر لی ۔
فیض آباد دھرنے کیخلاف آپریشن کےبعد حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگئے اور بالآخر اسلام آباد میں قیام امن کے لئے فوج سے مدد طلب کرنا پڑگئی ۔ حکومت نے فوج طلبی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا
وفاقی حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن تو جاری کردیا تاہم جلد بازی میں متعدد غلطیاں کر بیٹھی ۔ جس پر پاک فوج نے جوابی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کچھ نکات کی وضاحت طلب کر لی ۔

جوابی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دھرنا مظاہرین کےخلاف پولیس کو پوری طرح استعمال نہیں کیا گیا جبکہ مظاہرین سے نمٹنے کیلئے رینجرز کو بھی تحریری احکامات نہیں دیئےگئے ۔
جوابی مراسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی شق 8 کی بھی وضاحت طلب کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ فوج روایتی طور پر مظاہروں کو منتشر کرنے کیلئے نہیں بلکہ ہنگامہ ختم کرنے کیلئے ہوتی ہے ۔
فوج کے جوابی مراسلے میں سپریم کورٹ کے 23 نومبر 2017 کے فیصلے کی روشنی میں وضاحت بھی مانگی گئی ہے اور عدالتی احکامات کےمطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آتشیں اسلحہ استعمال نہ کرنے کی بھی تلقین کی گئی ہے۔