Thursday, December 8, 2022

اسد عمر نے وزارت خزانہ کو 8 ماہ تک چلایا

اسد عمر نے وزارت خزانہ کو 8 ماہ تک چلایا

 اسلام آباد (92 نیوز) اسد عمر نے وزارت خزانہ کو 8 ماہ تک چلایا۔ عوام کو مہنگائی کے بھنور میں پھنسایا اور دعوؤں کا ایک سے بڑھ کر ایک ریکارڈ بنایا لیکن جب عملدرآمد کا وقت آیا تو استعفیٰ دے کر چلتے بنے۔

 اسد عمر آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کی بات کرتے تھے۔ بعد میں آئی ایم ایف سے ہی قرضہ لینے کے لیے جتن کرتے رہے ۔ پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کا ضرور کہا لیکن بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھاتے رہے ۔ بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے فی یونٹ اضافہ کیا اور پٹرول سنچری کے قریب جا پہنچا۔

 مہنگائی کی شرح  بھی اسد عمر کے دور میں پانچ سال کی ریکارڈ سطح پر گئی اور افراط زر کی شرح 3 فیصد سے 9 فیصد تک پہنچ گئی۔ قرضے بھی کم کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر 7 ارب ڈالرز کا قرضہ 6 ماہ میں لے لیا۔  

 اسد عمر نے شرح نمو دو گنا کرنے کا وعدہ کیا مگر 5.8  فیصد سے 2.8 فیصد پر لے آئے ۔ گیس کی قیمتوں میں بھی 15 فیصد اضافہ کیا ۔ نان فائلر کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور پھر پراپرٹی اور گاڑیاں خریدنے کی اجازت دے دی ۔  ڈالر بھی 125 روپے سے 145 روپے تک پہنچا دیا ۔