Tuesday, October 4, 2022

اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ، اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ معطل

اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ، اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ معطل

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2رکنی ڈویژن بنچ نے اسحاق ڈارکی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار ریفرنس میں واحد ملزم ہیں ۔ وہ کب بیرون ملک گئے؟ ۔ کیا ان کےخلاف ٹرائل چل رہا ہے؟۔
اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ کاکہنا تھا کہ ان کے موکل علاج کےلئے 23اکتوبر کو بیرون ملک گئے۔ تاثر دیا جارہا ہے کہ اسحاق ڈار بھاگ رہے ہیں وہ بھاگنا نہیں صرف نمائندے کے ذریعے ٹرائل چاہتے ہیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت نے ملزم کو اشتہاری قرار دینے کےلئے صرف 10 دن کا وقت کیوں دیا؟ ۔
جسٹس اطہر من اللہ نے نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق سے کہا کہ وہ میڈیکل رپورٹ دکھائیں جس کی آپ نے تصدیق کرائی ہے۔
عمران شفیق بولے دفتر خارجہ کے ذریعے رپورٹ بھجوائی تھی ابھی تک جواب نہیں آیا۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت میڈیکل ایکسپرٹ نہیں آپ میڈیکل بورڈ بٹھا دیتے جورپورٹ کا جائزہ لے کر بیماری بتا دیتا۔ انہوں نے سپیشل پراسیکیوٹر نیب کو 2آپشن دیئے کہ یا تو احتساب عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کارروائی 30 دن میں مکمل کرنے کا حکم دیں یا پھر آئندہ سماعت تک کارروائی کو روک دیں۔
عمران شفیق نے دوسرے آپشن کا انتخاب کیا۔
عدالت نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے 17جنوری تک حکم امتناع جاری کردیا۔