Thursday, October 6, 2022

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنسز کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنسز کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی

اسلام آباد( 92 نیوز )اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنسز کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔
اسحاق ڈار کے خلاف ناجائز اثاثہ جات نیب ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی ۔ نجی بینک سے تعلق رکھنے والے استغاثہ کے گواہ فیصل شہزاد نے بیان ریکارڈ کرانے کے بعد اسحاق ڈار کے بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔
ڈائریکٹر قومی اسمبلی شیر دل خان کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار این اے 95 لاہور سے 1993 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 4 نومبر 1996 تک رکن قومی اسمبلی رہے۔ 1993 میں اسحاق ڈار 14 ہزار روپے ماہوار تنخواہ لیتے تھے۔
سیر دل نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار دوسری مرتبہ این اے 97 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 5 فروری 1997 کو وزیر بن گئے ۔
استغاثہ کے تیسرے گواہ ڈائریکٹر منسٹری آف کامرس قمر زمان نے بیان قلمبند کرایا ۔ 28جولائی 2017 کو نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد اسحاق ڈار سمیت کابینہ کو کام سے روک دیا گیا ۔ 4اگست 2017کو اسحاق ڈار نے ایک بار پھر وزیر خزانہ، ریونیو، شماریات اور اکنامک افئیرز کا قلمبند سنبھالا ۔
گواہ قمرزمان نے بتایا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف نیب لاہور رانا محمد علی کو تمام مطلوبہ دستاویزات کی کاپیاں ارسال کیں ۔ بعد میں تفتیشی افسر کو بیان ریکارڈ کرایا۔
جج محمد بشیر نے دستاویزات پر موجود دستخط اور انگوٹھے کے نشان کو گواہ سے تصدیق کرائی ۔ ڈپٹی سیکرٹری کابینہ ڈویژن کے عہدے پر تعینات استغاثہ کے چوتھے گواہ واصف حسین نے بھی بیان قلمبند کرادیا ہے۔ انھوں نے اسحاق ڈار کی بطور وزیر اور دیگر تعیناتیوں کا ریکارڈ پیش کیا ۔ کیس کی سماعت21دسمبرتک ملتوی کردی گئی ۔