Sunday, December 4, 2022

استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں 50 فیصد کمی، ریونیو میں اربوں روپے کا گھاٹا

استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں 50 فیصد کمی، ریونیو میں اربوں روپے کا گھاٹا
کراچی (92نیوز) استعمال شدہ کاروں کی درآمد سے متعلق حکومتی پالیسی سخت ہونے کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران درآمد میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے جس سے حکومت کو کاروں کی درآمد پر ملنے والی کسٹم ڈیوٹی میں اربوں روپے کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کا کہنا ہے کہ لوکل کار اسمبلرز کے دباو کے بعد حکومت کی جانب سے پرانی گاڑیوں کی درآمد پانچ سال سے کم کر کے تین سال کردی گئی جس سے استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں حکومت کو ملنے والی کسٹم ڈیوٹی میں اربوں روپے کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں محض تین ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں۔ اگر حکومت گاڑیوں کی ڈائریکٹ امپورٹ کی اجازت دے تو ریونیو میں دگنا اضافہ ہو جائے گا۔ ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کے لیے مشکل فیصلے برقرار رکھے اور استعمال شدہ کاروں کی درآمدی پالیسی نرم نہ کی گئی تو آئندہ سال کاروں کی درآمد میں مزید پچاس فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔