Wednesday, December 7, 2022

اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود وزارت صحت پاکستان کو پولیو فری بنانے میں ناکام

اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود وزارت صحت پاکستان کو پولیو فری بنانے میں ناکام
اسلام آباد(92نیوز)اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود وزارت قومی صحت پاکستان کو پولیو فری بنانے میں ناکام ہوگئی ، انسداد پولیو کے نام پر پاکستان میں گیارہ ادارے کام کررہے ہیں، اس کے باوجود پاکستان کو عالمی سفری پابندیوں کا سامنا ہے۔ تفصیلات کےمطابق پاکستان ان دو بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں آج بھی پولیو کا مرض بچوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے، پاکستان میں انسداد پولیو کے نام پرہرسال 11 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کردی جاتی ہے۔ جس میں غیر ملکی امداد اور قرض کی رقم بھی شامل ہے،ایک طرف وفاقی حکومت کے متعدد ڈاکٹر بھاری معاوضے کے لالچ میں پولیو پروگرام سے منسلک ہیں تو دوسری طرف یونیسیف،عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں میں بھی لوگ لاکھوں روپے کی تنخواہیں بٹوررہے ہیں اس کے باوجود پاکستان پر پولیو کی سفری پابندیاں ختم نہیں کرائی جاسکیں۔ پولیو کے ہر عالمی اجلاس میں ماہرین کے بجائے وزیرقومی صحت خود چلی جاتی ہیں  سائرہ افضل نے پولیو کے معاملے پرخیبر پختونخوا حکومت سے بھی محاذ شروع کررکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے سردی کے موسم میں پولیو وائرس کمزور ہوجاتا ہے،تاہم حکومت نے وائرس کے خاتمے کے لیے اس سال کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ،اس لیے آئندہ سال مرض مزید پھیل سکتا ہے۔