Thursday, October 6, 2022

اداروں میں عوام کی کمائی کی لوٹ سیل لگی ہے، چیف جسٹس

اداروں میں عوام کی کمائی کی لوٹ سیل لگی ہے، چیف جسٹس
اسلام آباد (92 نیوز) پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اداروں میں عوام کی کمائی کی لوٹ سیل لگی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق ازخودنوٹس کیس کے دوران چیف جسٹس نے ایم ڈی پی ایس او عمران الحق سے کہا کہ آپ کو وفاقی حکومت بھی بجٹ دیتی ہے۔ اس پر ایم ڈی عمران الحق نے بتایا کہ پی ایس او کو کوئی بجٹ نہیں ملتا، سالانہ انتظامی اخراجات 10 سے 12 ارب روپے ہے، ایک سال میں کل منافع 18 ارب روپے سے زیادہ ہے، پی ایس او کا کل ریونیو ایک اعشاریہ دو ٹریلین ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا تقرر کس نے کیا،ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ میری تقرری کی منظوری وزیر اعظم نے دی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس وقت وزیر پیٹرولیم کون تھا جس پر ایم ڈی عمران الحق نے کہا کہ اس وقت وزیر پیٹرولیم شاھد خاقان عباسی تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ میں یہی آپ کو دوستی سمجھا رہا تھا۔ ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ یہ آسامی اشتہار کے ذریعے آئی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چھ افراد شارٹ لسٹ ہوئے اور سمری تیار ہوئی،ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ انٹرویو اور اہلیت جانچنے کے لئے نجی کمپنی کے سروسز حاصل کی گئیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عجیب دھندہ بنایا ہے کہ نجی کمپنیوں کو کہتے ہیں ہمارے لئے افسر تلاش کریں، گریڈ 20 کا افسر 2 لاکھ تنخواہ لیتا ہے،ایم ڈی نے کہا کہ میرے عہدے کی مدت تین سال ہے، تین سال سے کارکردگی بونس نہیں لیا۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کونسا احسان کیا ہے،کیوں نہ آپ کو معطل کر دیں۔ ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ او جی ڈی سی کے سربراہ کی تنخواہ 44 لاکھ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی  لوٹ سیل لگی ہے، لیتے جاﺅ اس ملک کے ٹیکس پیئرز کی کمائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ کے دو تین ماہ باقی ہیں ، آپ سے زیادتی نہیں کر رہے ہیں، یہ ملک کا ایک بڑا سکینڈل ہے کہ نجی کمپنیاں بنا کر اپنوں کو نواز جاتا ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی دوستیاں سامنے نہیں آئینگی، ہمارے پاس ایسے ریکارڈ ہیں کہ سب سامنے آجائے۔ چیف جسٹس نے تفتیشی اداروں  کے نمائندوں کو طلب کر لیا۔