Thursday, September 29, 2022

آصف زرداری نے وزیراعظم سے مفاہمت کی خبریں مسترد کر دیں

آصف زرداری نے وزیراعظم سے مفاہمت کی خبریں مسترد کر دیں
لاہور (92نیوز) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی کوششیں کامیاب ہو گئیں۔ سابق صدر آصف زرداری نے پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مفاہمت کے تمام دروازے بند کر دیے۔ طویل خاموشی کے بعد لب کھولتے ہی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تردید کر دی اور کہا پیپلز پارٹی کی پالیسی واضح ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد جہاں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا وہاں ان کے والد سابق صدر آصف زرداری نے بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔ وزیراعظم نواز شریف اس دوران دو بار لندن گئے جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ مفاہمت کے دلدادہ آصف زرداری وزیراعظم نواز شریف کا اس مشکل گھڑی میں ساتھ دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان لندن گئے اور واپس آنے کے بعد کہہ دیا کہ آصف زرداری اور نواز شریف میں مفاہمت ہو گئی ہے۔ اس تمام صورتحال میں کئی طرح کے شکوک و شبہات نے جنم لیا لیکن آصف زرداری خاموش رہے۔ بالآخر اتوار کو آصف زرداری نے چپ کا روزہ توڑا اورکہا کہ ان کی مولانا فضل الرحمان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ پانامہ لیکس پر مصالحت کے حوالے سے خبریں قطعی من گھڑت، غلط اور بے بنیاد ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پانامہ لیکس کے مسئلہ کو ہر فورم پر اٹھا کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ تحقیقات کو نظرانداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آصف زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اس مسئلے پر نہایت سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا ہے۔ صرف پارٹی کے اندر ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد پانامہ لیکس پر موقف اختیار کیا گیا ہے۔ آصف زرداری نے واضح کیا کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر ان کی پالیسی بھی وہی ہے جو پیپلز پارٹی کی ہے۔ موقف میں تضاد کی باتیں ابہام پیدا کرنے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے ساتھ مفاہمت سے آصف زرداری کا انکار بلاول بھٹو کی کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے والد کو وزیراعظم سے نہ ملنے پر آمادہ کیا بلکہ اپنے لاڈ اور ضد سے انہیں لندن چھوڑ کر دبئی آنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔