Tuesday, December 6, 2022

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کے دو ملزموں کی درخواست ضمانت منظور

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کے دو ملزموں کی درخواست ضمانت منظور
اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل  میں گرفتار دو ملزمان کی درخواست منظور کر لی جب کہ ایک کی ضمانت کنفرم کر دی گئی ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ حکومت کو نیب قانون تبدیل کرنے کا کہا تھا لیکن کچھ نہیں کیا ،ایسا نہیں ہوسکتا کہ جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا دے دیں۔ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت  چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ،پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے سابق چیف ایگزیٹو آفیسرامتیاز حیدر ، آشایہ ہاؤسنگ کے کوآرڈنیٹر بلاول قدوائی کی ضمانت منظور کرلی گئی  جبکہ جوائنٹ وینچر کمپنی کے نمائندے علی سجاد بھٹہ کی ضمانت کنفرم کردی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے  کہ تاثردیا گیا سپریم کورٹ نے نیب قانون میں سختی کردی ہے ، کہا گیا کسی کو نقصان یا فائدہ پہنچانے کیلئے عدالت نے قانون سخت کیا ، عدالت نے سختی نہیں کی صرف قانونی پوزیشن واضح کی تھی ، حکومت کونیب قانون تبدیل کرنے کا کہا تھا لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگراس معاملے کوہم تفصیل سے سنیں گے توہم مکمل انصاف کریں گے ، ہوسکتا ہے ہم اس پورے کیس کو ختم کردیں، ایک سال 8 ماہ کا وقت بہت طویل وقت ہے ، قانون میں 30 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  احتساب عدالت میں آشیانہ اسکینڈل کا ٹرائل سست روی کا شکار ہے ، ٹرائل کورٹ میں جرم ثابت ہوا تو سزا مل جائے گی، کسی وجہ کے بغیر گرفتاری بد نیتی ہے اور کسی شخص کو غیر ضروری حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔