Saturday, December 3, 2022

آرٹیکل 62، 63کا اطلاق کیس کے حقائق کے مطابق ہوتا ہے: سپریم کورٹ

آرٹیکل 62، 63کا اطلاق کیس کے حقائق کے مطابق ہوتا ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (92نیوز) پانامہ لیکس کیس میں وزیراعظم کے وکیل نے پھر پرانے کیسوں کا حوالہ دیدیا۔ کہتے ہیں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا فیصلہ تمام شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہوا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 62اور 63کا اطلاق کیس کے حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے پانامہ لیکس کیس کی سماعت کی۔ وزیراعظم نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل شروع کئے تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ مخدوم صاحب آپ کو مزید کتنا وقت لگے گا۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ وہ تقاریر میں تضاد، زیرکفالت اور پھر دائرہ اختیار کے حوالے سے بات کرینگے۔ انہوں نے 2009ء میں ڈاکٹر مبشر حسن کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یوسف رضا گیلانی کیس میں 7رکنی بنچ نے فیصلہ دیا تھا۔ لارجر بنچ کی روشنی میں یوسف رضا گیلانی کی ناہلی کا فیصلہ آیا۔ نااہلی کے تمام مقدمات میں فیصلہ شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہوا۔

مخدوم علی خان کاکہنا تھا کہ دہری شہریت کے حوالے سے آرٹیکل 63ون سی واضح ہے۔ دوہری شہریت کے فیصلے کی بنیاد پر تقاریر پر نااہلی نہیں ہوسکی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دوہری شہریت کے فیصلے میں یہ بھی واضح ہے کہ عدالت دائرہ اختیاررکھتی ہے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ 62ایف ون اور 63ایف ون کا طریقہ کار مختلف ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ 62ون کے حوالے سے کوئی طے شدہ پیٹرن نہیں۔ ممکن ہے کہ اس حوالے آئندہ بھی متعدد فیصلے آئیں۔ 62اور 63کا اطلاق کیس کے حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ رینٹل پاور کیس میں عدالت نے راجہ پرویز اشرف کے خلاف آبزرویشن دی۔ آبزرویشن کے باوجود راجہ پرویز اشرف کے خلاف نااہلی کا فیصلہ نہیں دیا۔ وزیراعظم کے وکیل کے دلائل کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف ڈائس پر آئے اور کہا کہ جن فیصلوں کاحوالا دیا جارہا ہے انکی نقول فراہم کی جائیں۔ جسٹس عظمت سعید نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا کیس پیش نہیں کررہے تو نقول کا کیا کریں گے۔