Wednesday, November 30, 2022

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع
اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کر دی۔ عدالت نے 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا آرمی چیف کی توسیع آج رات 12 بجے سے شروع ہوگی اور موجودہ تقرری قانون سازی سے مشروط ہوگی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت اس معاملہ پر تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، عدالت مناسب سمجھتی ہے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ آرمی چیف کی سروس کی شرائط اور مدت کو قانون سازی کے ذریعے کلیریفائی کرے ، پارلیمنٹ آرٹیکل 243 کے دائرہ اختیار کو بھی واضح کرے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا جنرل قمرجاوید باجوہ 6 ماہ تک بطورآرمی چیف اپنی خدمات جاری رکھیں گے، نئی قانون سازی آرمی چیف کی مدت اور قواعد و ضوابط کا تعین کرے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، وفاقی حکومت اس معاملے پر اپنا موقف بدلتی رہی،کبھی آرٹیکل 243 اور کبھی ریگولیشن 255 پر انحصار کیا گیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کی معاونت سے ہم آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے کوئی قانونی نقطہ تلاش نہیں کر پائے، کیا آرمی چیف کو ری اپوائنٹ یا توسیع دی جا سکتی ہے؟ ایسا کوئی نقطہ نہیں ملا۔ عدالت کا کہنا تھا اٹارنی جنرل کے ہمارے سوالات پر جوابات پاکستان آرمی میں رائج روایات پر منحصر تھے، اٹارنی جنرل نے واضح یقین دہانی کرائی ہے جو روایات ہیں انہیں قانونی شکل دی جائے گی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا۔ اٹارنی جنرل بولے ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھے ہوں گے، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس میں مزید کہا آرمی چیف ملکی دفاع پر نظر رکھے یا آپ کے ساتھ بیٹھ کر قانونی غلطیاں دور کرے؟۔ اٹارنی جنرل نے مدت اور مراعات سے متعلق 6 ماہ میں قانون سازی کی یقین دہانی کرادی ، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ پارلیمان اور حکومت پر چھوڑ رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان کہتے ہیں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، اس پر عمل درآمد کریں گے، دو تہائی کی ضرورت نہیں ، سادہ اکثریت سے قانون منظور ہوجائے تو مسئلہ نہیں ہوگا، ایک سے ڈیڑھ ماہ میں قانون سازی ہو جائے گی، حکومت نے اپنی طرف سے کوئی نئی چیز شامل نہیں کی تھی۔ قانون سازی ہونے پر عدالت 6 ماہ بعد پھر جائزہ لے لگی۔