Monday, January 17, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

آرمی چیف مطالعہ کے شوقین، نورجہاں کے نغمے سنتے ہیں: بیٹوں کا انٹرویو

آرمی چیف مطالعہ کے شوقین، نورجہاں کے نغمے سنتے ہیں: بیٹوں کا انٹرویو
December 25, 2016

لاہور (ویب ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کےبیٹوں سعد اور علی نے امریکی جریدے کو انٹرویو میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور دہشت گردی کو پاکستان کے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ غیرذمہ داری ناپسند اور نورجہاں کے نغمے پسند کرتے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنائے جانے کے بارے میں ان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ چھبیس نومبر کی شام ان کا خاندان اپنی دادی اور نانی کی قبروں پر فاتحہ خوانی کیلئے گیا ہوا تھا کہ اچانک ان کے والد کو پرائم منسٹر ہاؤس سے کال آئی تو سب لوگ گھر واپس آئے جس پر ان کے والد فوجی وردی پہن کر وزیراعظم ہاؤس چلے گئے اور اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ان کے والد کو آرمی چیف بنائے جانے کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔

آرمی چیف کے بیٹے سعد کا کہنا ہے کہ ان کے والد شہرت کے شوقین نہیں بلکہ زیادہ تر پس منظر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کے تین ہی دن بعد دنیا کی چھٹی بڑی فوج کی قیادت سنبھال لی۔ سعد کے مطابق ہر آرمی چیف کے کام کرنے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ ان کے والد آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ کہتے ہیں کہ وہ قائداعظم کی سوچ کے مطابق پاکستان چاہتے ہیں جہاں افراد کی بجائے ادارے مقدم اور اہم ہوں۔

جنرل باجوہ نے گیارہ نومبر انیس سو ساٹھ کو ایک فوجی خاندان میں آنکھ کھولی۔ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور انیس سو اٹھہتر میں فوج میں کمیشن لیا اور دو سال بعد سولہ بلوچ رجمنٹ میں تعینات ہوئے۔ انہوں نے امریکا اور کینیڈا کی فوجی اکیڈمیوں میں تربیتی کورسز اور مشقوں میں حصہ لیا اور ٹین کور بھی کمانڈ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایسے وقت فوج کی کمان سنبھالی جب پاک بھارت کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔

بھارتی فوجی کمانڈر بھی ان کا احترام کرتے ہیں جن میں سابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ انہیں ایک پیشہ ور اور قابل فوجی افسر قرار دیتے ہیں لیکن آرمی چیف کے بیٹے علی کا کہنا ہے کہ یہ احترام دوطرفہ ہے۔ ان کے والد بھی بکرم سنگھ کو پیشہ ور اور ایماندار شخص سمجھتے ہیں۔ ان کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو تاریخ خصوصاً یورپی اور بھارتی تاریخ سے گہری دلچسپی ہے۔ وہ مطالعے کے بہت شوقین ہیں جبکہ نورجہاں کے نغمے بہت شوق سے سنتے ہیں۔ ان کی لائبریری میں ہر اچھی کتاب موجود ہے۔

سعد اور علی کے مطابق ان کے والدبتاتے ہیں کہ اسکول مین ان کا شمار پڑھاکو لڑکوں میں نہیں تھا اور مطالعے کی عادت بعد میں پڑی۔ وہ ذہانت کے ساتھ محنت کے قائل ہیں کیونکہ صرف ذہانت و فطانت کافی نہیں ہے، وہ لیاقت پر محنت کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کرکٹ بھی کھیلتے ہیں اور ویوین رچرڈز اور جاوید میانداد کے بہت مداح ہیں۔

جنرل قمر جاوید باوجوہ غیر ذمہ داری کو بالکل بھی برداشت نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور انہوں نے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تصاویر اپنے دفتر میں لگا رکھی ہیں تاکہ کبھی یہ واقعہ فراموش نہ کر سکیں۔