Friday, December 9, 2022

آرمی ایکٹ کا ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور

آرمی ایکٹ کا ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور
اسلام آباد(92نیوز)قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی ترمیمی بل2017 اور28 ویں آئینی ترمیم منظور،جے یوآئی،جماعت اسلامی ،ایم کیوایم اور جمشید دستی کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد، گرفتار دہشت گردوں کی 24 گھنٹوں میں گرفتاری ظاہر کرنے.چارج شیٹ دینے اور قانون شہادت کے اطلاق کی شقیں منظور کرلی گئیں ۔ قومی اسمبلی نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے قیام کی تحریک منظور کرلی ۔ تفصیلات کےمطبق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت  ہوا۔ قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی ترمیمی بل 2017 کی منظوری دیدی گئی۔ حکومتی اتحادی جے یو آئی (ف)، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور جمشید دستی کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ پاکستان آرمی ترمیمی بل کی منظوری دیتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی راہ ہموار ہو گئی۔ قومی اسمبلی نے 28 ویں آئینی ترمیم کی بھی منظوری دیدی۔ آئینی ترمیم کی حمایت میں 255 جبکہ 4 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ جے یو آئی ف نے پاکستان آرمی ترمیمی بل 2017 اور 28 ویں آئینی ترمیم کی ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمشید دستی نے آئینی ترمیم اور پاکستان آرمی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔ قومی اسمبلی نے پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے قیام کے لئے تحریک منظور کر لی۔ اسپیکر ایاز صادق سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل کمیٹی قائم کریں گے۔ کمیٹی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کی مجاز ہوگی۔ ملٹری کورٹس سے مقدمات کی سول عدالتوں کی منتقلی کے عمل کی نگرانی کی تجویز بھی شامل کردی گئی۔ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی 3 ماہ بعد اپنی رپورٹ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔