Monday, January 30, 2023

آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہو گا ، اسد عمر

آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہو گا ، اسد عمر
اسلام آباد (92 نیوز) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ملک کو فوری طور پر 9 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے لیکن آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہو گا۔ سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی ولا کی زیر صدارت ہوا۔ شیری رحمان کا فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کےحالیہ دورے سے متعلق توجہ دلاو نوٹس پر کہنا تھا کہ حکومت بتائے کہ پاکستان پر  ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کئےجانے کے کیا اثرات ہونگے اور صورتحال سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ توقع ہے جلد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ  سے پاکستان کا نام نکل جائے گا ۔ رواں ماہ 13 سے 16 اگست تک ایف اے ٹی ایف کے دفد نے پاکستان کا دورہ  کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کا دورہ معمول کا دورہ تھا ۔ 11ستمبر کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں مختلف امورزیر غور آئیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کو کرنسی اسمگلنگ حوالہ بزنس اور ٹرر فنانسنگ پر زیادہ اعتراض ہے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا  کہ صروتحال کی بہتری کے لئے  نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی بنا  کر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے پر تحفظات ہیں ۔ ہم سے نا مناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ ملکی دولت کی حفاظت اور کرنسی سمگلنگ روکنا بہت ضروری ہے۔ سینیٹ کو وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ ملک میں مجموعی ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 16 لاکھ 22 ہزار 215 ہے۔ سال 2017 اور 18 کے درمیان 1316 بلین روپے جمع کئے گئے۔ حکومت نے گزشتہ 5 سالوں کے دوران 42.1 ارب امریکی ڈالر کا قرضہ لیا۔ اس عرصے کے دوران 70 ارب امریکی ڈالر کے قریب رقم واپس کی۔ پانچ سالوں کے دوران بیرونی قرضوں کی نیٹ موبیلائزیشن 22.1 ارب امریکی ڈالر تھی۔ حکومت نے یکم جولائی 2013 سے 31 مارچ 2018 تک 7 ارب فارن کرنسی بانڈز کے ذریعے حاصل کیے۔ اس عرصے کے دوران فارن کرنسی بانڈ کی مد میں 1.25 امریکی ارب ڈالر کی رقم واپس کی۔ اس عرصے کے دوران فارن کرنسی بانڈ کے اجراء کے ذریعے نٹ موبائلازیشن 5.75 ارب امریکی ڈالر تھی۔ اس کے بعد سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہی پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔