Monday, October 18, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

آئین قومی اداروں پر تنقید کی اجازت نہیں دیتا، کراچی آپریشن اور ضرب عضب سب کی مشاورت سے کیا: وفاقی وزیر اطلاعات

آئین قومی اداروں پر تنقید کی اجازت نہیں دیتا، کراچی آپریشن اور ضرب عضب سب کی مشاورت سے کیا: وفاقی وزیر اطلاعات
May 3, 2015
کراچی (92نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ علم سے محروم رکھ کر قوموں کو محکوم بنایا جاسکتا ہے، ہمیں ہماری حکومتوں نے کتاب سے محروم رکھا، لوگوں کا کتاب سے رشتہ کمزور نہیں ہوا ٹوٹ گیا ہے، ایسی کتاب چھپنی چاہیے جس میں فکرکی دعوت دی گئی۔ وفاقی وزیر کراچی میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی، سندھی، بلوچی جیسے لفظوں کا حل نکل سکتاہے، سکولوں میں بچوں کو پاکستانی بنانے کے بجائے تعصب پرست بنایاجاتاہے، پاکستان نے 4 آمریتیں دیکھیں اور چاروں کی زبان مختلف تھی مگر بنیاد ایک تھی، قائداعظم کو ٹائی پہنادی تو کبھی شیروانی مگر انکی تعلیمات سے دور رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوچ پر پابندی لگانے کا نام آمریت ہے، ہم سب نے مارشل لاءکو قبول کیا تھا، فرقہ پرستی کی فکر رکھنے والے دانشورکبھی ریاست کی رہنمائی نہیں کرسکتے، آزادی رائے کو کچلنے کا نام آمریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدرکو معلوم ہوا پارلیمنٹ میں بجلی جاتی ہے تو انہوں نے سولرپینل لگوانے کا کہا، قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پرتنقید نہیں کرنی چاہیے، این ایف سی ایوارڈ اپنے وقت پر ہوگا، آئین پاکستان قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر تنقید کی اجازت نہیں دیتا، الطاف حسین کی تقریر پر پیمرا نے نوٹس لیا، الطاف حسین کو خود بھی غلطی کا احساس ہوا، سیاسی جماعتوں نے بھی الطاف حسین کی تقریرپر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا عمران خان پاکستان کو دوسرے ملکوں سے لڑوانے کی کوشش کرتے ہیں، عمران خان نے پارلیمنٹ اور فوج کو لڑانے کی کوشش کی، عمران خان کی سوچ منفی ہے، پانی کی تقسیم وفاق کی نہیں ارسا کی ذمہ داری ہے، ارسا میں چاروں صوبوں کے نمائندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کراچی کے حالات کو ٹھیک کرنے کا پہلے کسی نے کیوں نہیں سوچا، وزیراعظم نوازشریف نے کراچی آپریشن کرکے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔ کراچی آپریشن اور ضرب عضب سب کی مشاورت سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا سائبر بل پر نوجوانوں کا واویلا بلاجواز ہے، نوجوانوں نے سائبر بل کو پڑھا اور سمجھا نہیں، سائبر بل میں کوئی ایسا قانون موجودنہیں جو دنیا میں موجود نہ ہو، سائبر بل متفقہ رائے سے پاس ہوا۔ سائبر بل میں نوجوانوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی، اگر کوئی کسی کوبدنام کرنے کی کوشش کرے گا تووہ جرم ہے۔
تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے فوری اطلاع کی اجازت دیں

آپ کسی بھی وقت دائیں طرف نیچے بیل آئیکن پر صرف ایک کلک کے ذریعے آسانی سے سبسکرائب کر سکتے ہیں۔