Monday, November 28, 2022

آئینی رکاوٹیں !!! وزارت مذہبی امور کو رویت ہلال کمیٹی بارے قانون سازی سے روک دیا گیا

آئینی رکاوٹیں !!! وزارت مذہبی امور کو رویت ہلال کمیٹی بارے قانون سازی سے روک دیا گیا
اسلام آباد (92نیوز) رویت ہلال کمیٹی کیلئے قانون سازی میں اٹھارہویں ترمیم آڑے آگئی۔ وزارت قانون و انصاف نے وزارت مذہبی امور کو رویت ہلال کمیٹی کیلئے قانون سازی کرنے سے روک دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اراکین سینیٹ کی رویت ہلال کمیٹی پر تنقید کے بعد رولنگ دی تھی کہ وزارت مذہبی امور پندرہ نومبر تک رویت ہلال کمیٹی کیلئے قانون سازی کرے۔ اگر وزارت نے پندرہ نومبر تک قانون سازی نہیں کی تو سولہ نومبر کو معاملہ سینیٹ کمیٹی کو بھجوادیا جائے گا کیونکہ رویت ہلال کمیٹی کا وجود فروری انیس سو چوہتر کو قومی اسمبلی کی قرارداد کے بعد وجود میں آیا تھا لیکن بعد میں اس کیلئے نہ کوئی قانون سازی کی گئی اور نہ ہی کوئی قواعد و ضوابط بنائے گئے لیکن اب رویت ہلال کمیٹی کیلئے قانون سازی آئینی مسئلہ بن گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے جب وزارت قانون سے رابطہ کیا تو وزارت کو بتایا گیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزارت مذہبی امور صرف اسلام آباد کی حد تک قانون سازی رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے کر سکتی ہے‘ پورے ملک کے حوالے سے قانون سازی نہیں کر سکتی ہے۔ وزارت مذہبی امور کو بتایا گیا کہ اگر دو صوبائی اسمبلیاں قرارداد پاس کر کے رویت ہلال کمیٹی کیلئے قانون سازی کا اختیار وزارت مذہبی امور کو دے دیں تو وزارت قانون سازی کر سکتی ہے۔ وزارت مذہبی امور جلد ہی اس صورتحال کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کو بھی آگاہ کرے گی۔