Monday, January 30, 2023

آئندہ مالی سال کیلئے پنجاب کا 22 کھرب 40 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش

آئندہ مالی سال کیلئے پنجاب کا 22 کھرب 40 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش
لاہور (92 نیوز) آئندہ مالی سال کیلئے پنجاب کا 22 کھرب 40 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔ وفاقی کی طرح پنجاب میں بھی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ پنجاب حکومت نے مالی سال 2020-21 کا بجٹ منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت  نے اپنی تقریر میں کہا  کہ کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال میں حکومتی اخراجات میں حتی الامکان کمی کی گئی۔ ضمنی گرانٹس اور محکموں کی سفارشات پر کنٹرول سے ایک ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کی بچت کی گئی۔ آئندہ مالی سال میں فیڈرل ڈیوائزیبل پول  میں محصولات کی وصولی 49  کھرب 63 ارب روپے متوقع ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبہ پنجاب کو 14 کھرب 33 ارب روپے مہیا کئے جائیں گے۔ بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ صوبائی محصولات میں 317 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال میں 56 ارب روپے سے زائد کے تاریخی ٹیکس ریلیف پیکیج کا اعلان کر رہی ہے۔ سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں ہیلتھ انشورنس اور ڈاکٹر کی کنسلٹینسی فیس اور اسپتالوں کی فیس جو بالترتیب 16 اور 5 فیصد تھی زیرو فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ 20سے زائد سروسز پر ٹیکس ریٹ 16 فیصد سے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ پراپرٹی بلڈرز اور ڈویلپرز سے بالترتیب 50 روپے فی مربع فٹ اور 100 روپے فی مربع گز ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ جو شخص پراپرٹی بلڈر اور ڈویلپر کے طور پر ٹیکس ادا کرے گا اس کو کنسٹرکشن سروسز سے ٹیکس کی چھوٹ ہو گی۔ آئندہ مالی سال کے لئے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی دو اقساط میں کی جا سکے گی۔ پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلیوایشن ٹیبل کا اطلاق بھی ایک سال کے لئے موخر کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹس اور بیوٹی پارلرز پر کیش ادائیگی کرنے والے صارفین سے 16 فیصد جبکہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی کی صورت میں 5 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ 30 ستمبر 2020 تک مکمل ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں ٹیکس دہندگان کو 5 فیصد کی بجائے 10 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ مالی سال 2020-21 کے سرچارج کی وصولی پر بھی مکمل چھوٹ ہو گی۔ انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی شرح کو 20 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مکمل ادائیگی کی صورت میں 10 فیصد کی بجائے 20 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔ ای پے پورٹل کے تحت آن لائن ادائیگی کی صورت میں 5 فیصد کا خصوصی ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔ سرکاری زمینوں کی لیز، کرایہ داری، فروخت وغیرہ کی مد میں بورڈ آف ریونیو کے محصولات میں 20 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں جلد ہی ضروری ترامیم منظور کروائی جائیں گی۔ آئندہ مالی سال میں سٹیمپ ڈیوٹی کی موجودہ شرح کو 5 فیصد سے کم کر کے  ایک  فیصد کرنے کی تجویز ہے۔