Sunday, October 2, 2022

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ تین جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا  جائے گا

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ تین جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا  جائے گا
اسلام آباد(92نیوز)آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ تین جون کو پیش کیا جائے گا، وفاقی بجٹ کے کل حجم کا تخمینہ 4500 ارب روپے ، سود کی ادائیگیوں پر 1460 اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 900 ارب روپے مختص کیےجانے کا امکان ہے۔ تفصیلات کےمطابق وزارت خزانہ نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینا شروع کردی ہے۔ وفاقی سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے بجٹ کے حجم پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بریفنگ دی ہے جس میں وفاقی بجٹ کے کل حجم کا تخمینہ 4500 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے جاری اخراجات 3600 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ۔ سود  ادائیگیوں کے لیے 1460 ارب جب کہ سرکاری ملازمین کی پینشن کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ کے لیے 870 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ 900 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ 2016-17 کے دوران صوبوں کو گرانٹس اور ترقیاتی قرضوں کی مد میں 450 ارب روپے جاری کیے جائیں گے جب کہ سبسڈیز کے لیے 169 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان  ہے۔ سول حکومت کے اخراجات کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔  وفاقی ترقیاتی اخراجات کے لیے اگلے مالی سال کے لیے 900 ارب روپے مختص کیے جانے امکان ہے جس میں زیادہ تر منصوبے انفرا اسٹرکچر اور توانائی کے ہوسکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہوگا۔