Thursday, December 8, 2022

آئندہ دو سال تک اسٹیٹ لائف کی نجکاری نہیں کی جائیگی: وفاقی وزیر تجارت

آئندہ دو سال تک اسٹیٹ لائف کی نجکاری نہیں کی جائیگی: وفاقی وزیر تجارت
اسلام آباد (92نیوز) اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی نجکاری پر حکومت اور پیپلزپارٹی ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ وفاقی حکومت اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی نجکاری کا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت سے منظور کرانے میں ناکام ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق کمیٹی کا اجلاس سینیٹر شبلی فراز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ کمیٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ لائف انشور نس کارپوریشن کی تنظیم نو بل کو آنکھیں بند کرکے پاس نہیں کر سکتے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کو پبلک لمیٹڈ کمپنی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کاش حکومت پاکستان کو بھی کمپنی کی طرح چلائے۔ صدر یونین ا سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے کمیٹی کو بتایا کہ نجکاری بل کمیٹی میں پیش کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پیپلزپارٹی اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی نجکاری کی مخالفت کرتی ہے۔ جب تک حکومت اسٹیٹ لائف بل میں اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری نہ کرنے کی یقین دہانی نہیں کراتی بل کی حمایت نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ دو سال تک اسٹیٹ لائف کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ لائف کی نجکاری کا بل کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی اس کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 27ستمبر کو ہوگا جس میں تنظیم نو بل کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔