Monday, October 3, 2022

آئندہ بجٹ میں پلاسٹک انڈسٹری پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی

آئندہ بجٹ میں پلاسٹک انڈسٹری پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی
اسلام آباد (92نیوز) نئے بجٹ میں پلاسٹک انڈسٹری کے لیے خوشخبری، مختلف ٹیکسوں کو کم کرنے کی تجاویز پیش کردی گئیں۔ ایف بی آر نے ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز کو حتمی شکل دینا شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں پلاسٹک انڈسٹری پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔ پلاسٹک انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کے باعث ان کے لیے پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ بھاری ٹیکسز کی وجہ سے قومی خزانے کو فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہورہا ہے۔ ان ٹیکسوں کے باعث ملک میں اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ نئے بجٹ میں پلاسٹک انڈسٹری پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرنے اور پولیمرز کے کمرشل امپورٹرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 6.5 سے 3 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ کمرشل امپورٹرز پر ویلیو ایڈڈ جی ایس ٹی کی شرح ایک فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پلاسٹک انڈسٹری کے خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر غور کیا جار ہا ہے۔ نئے بجٹ میں پیپر اورپیپر بورڈ انڈسٹری پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں کمی کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جب کہ پیپر اور پیپر بورڈ کے خام مال اور تیار اشیا کی درآمد پر یکساں ٹیکس لگانے کا بھی امکان ہے۔ ایف بی آر نے پلاسٹک انڈسٹری پر ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔