Friday, February 3, 2023

آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ

آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد ( 92 نیوز ۹ آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ، انکم ٹیکس کے ذریعے 30 فیصد محصولات حاصل کرنے کا منصوبہ تیار ہوگیا۔ خفیہ اثاثہ جات اور بیرون ملک بینک اکاؤنٹس پکڑے جانے کی صورت میں 2 فیصد سالانہ جرمانہ ہوگا، اثاثہ جات ظاہر نہ کئے تو پانچ سال قبل کے کھاتے بھی کھل جائیں گے۔ حکومت نے مالی سال19-2018 کے لئے محصولات کے ہدف کو بڑھانے کے لئے انکم ٹیکس قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے،  انکم ٹیکس گزاروں کا سلیب 4 لاکھ سے 12 لاکھ کرنے پر 90 ارب روپے کا خسارہ پورا کرنے کیلئے نئے قوانین لائے جارہے ہیں۔ انکم ٹیکس کے ذریعے 30 فیصد محصولات حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے ۔ تخمینے کے مطابق440 ارب  میں سے کسٹمز اور سیلز ٹیکس کا حصہ اس سال کم ہوگا۔ ایمنسٹی سکیم اور پراپرٹی پر لاگو نئے قوانین کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جائےگا۔ اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کی صورت میں پانچ سال قبل کے کھاتے بھی کل جائیں گے، فنانس بل2018 میں یہ شق ڈال دی گئی ہے کہ  قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کے کھات بھی کھل سکتے ہیں۔  فارن کرنسی اکاونٹس ہولڈرز کے خلاف کارروائی کا حق مل جائے گا جبکہ پانچ سال قبل کے کھاتے نہ کھولنے کی چھوٹ ختم ہوجائے گی۔ نئے قوانین کے تحت کئی دھائیوں پرانے کھاتے کھول کر اندرون و بیرون ملک دولت کے ذرائع آمدن پر پوچھ گچھ ہوگی۔ انکم ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ سٹیٹمنٹ میں بھی بیرونی آمدن اور اثاثہ جات ظاہر کرنے کا کالم بنایا جارہا ہے۔ خود تشخیصی سکیم کے تحت انکم ٹیکس گوشواروں کے ہمراہ بیرونی اثاثہ جات اور بیرونی بینک اکاونٹس میں پڑی دولت کو ظاہر کرنا لازمی قرار ہوگا۔ اس ضمن میں سنگل پیج کے گوشوارہ فارم کو پر کرنا ہوگا  سالانہ1کروڑ روپے یا 1لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی ترسیلات زر پر بیرون ملک ذرائع آمدن پوچھے جائیں گے۔