Monday, October 3, 2022

آئل لابی ایک مرتبہ پھر لاکھوں ٹن مہنگا فرنس آئل درآمد کرنے کیلئے سرگرم ، ذرائع

آئل لابی ایک مرتبہ پھر لاکھوں ٹن مہنگا فرنس آئل درآمد کرنے کیلئے سرگرم ، ذرائع
 اسلام آباد (92 نیوز) آئل لابی ایک مرتبہ پھر لاکھوں ٹن مہنگا فرنس آئل درآمد کرنے کیلئے سرگرم ہو گئی۔ وزارت توانائی میں موجود دو اہم شخصیات کو فرنس آئل درآمد کرنے کیلئے قائل کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزارت توانائی میں موجود دو اہم شخصیات کو قائل کرنے کے بعد چار ماہ میں 11 لاکھ میٹرک ٹن فرنس آئل سرکاری ونجی پاور پلانٹس کو فروخت کرنے کا پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ فرنس آئل کے استعمال سے بجلی مہنگی اور گردشی قرضے میں 15 ارب روپے سے زائد اضافہ ہو گا۔ وزارت توانائی نے فرنس آئل درآمد کرنے کیلئے سمری کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو ارسال کر دی ہے۔ 92 نیوز کو موصول دستاویز کے مطابق موسم سرما کے دوران گیس اور آر ایل این جی کی طلب میں اضافے سے آئی پی پیز اور جینکوز کو گیس اور آر ایل این جی کی سپلائی کم کی جا سکتی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق مقامی ریفائنریاں اس طلب کو پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں جس کے باعث تیل کو درآمد کرنا پڑ سکتا ہے۔ کابینہ کی توانائی کمیٹی سے سفارش کی گئی کہ پیٹرولیم ڈویژن کوآئی پی پیز، جینکوز کیلئے ایچ ایس اف او، ایل ایس ایف او کی درآمد کے حوالے سے انتظامات کرنے کی ہدایت کی جائے۔ وزیر توانائی کی زیر صدارت 25 ستمبر 2020 کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس او کی جانب سے اکتوبر سے جنوری کے دوران 2 لاکھ ایم ٹی آر ایف او در آمد کر سکتا ہے۔ نجی آئی پی پیز کابینہ کی توانائی کمیٹی کے 20 جون 2020 کے فیصلے کے مطابق خریداری کر سکتے ہیں جس کے تحت نجی آئی پی پیز پی ایس او یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے پاور ڈویژن کے این او سی کے بعد آر ایف او در آمد کر سکتے ہیں۔ این او سی جاری کرنے سے قبل پیٹرولیم ڈویژن سے مشاورت کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ مقامی آر ایف او استعمال کیا جا چکا ہے۔ ایل ایس ایف او، ایچ ایس ایف او کی زائد در آمد کو روکنے کیلئے ضروری مقدار کی منظوری کابینہ کی توانائی کمیٹی سے حاصل کی جائے گی۔ سیکرٹری پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے آئی پی پیز، جینکوز اور ریفائنریوں کی ایل ایس ایف او، ایچ ایس ایف او کے ذخائر سے متعلق جائزہ لیا جائے گا جس کے تحت جنوری 2021 کیلئے ضرورت کے مطابق مزید ایل ایس ایف او، ایچ ایس ایف او درآمد کی جا سکے گی۔ پاور ڈویژن کی جانب سے یقینی بنایا جائے گا کہ تمام درآمد ی تیل جینکوز اور آئی پی پیز کی جانب سے استعمال کیا جائے گا۔