6ماہ میں قانون نہ بن سکا تو آرمی چیف ریٹائر ہو جائیں گے، سپریم کورٹ


ایف بی آر ملک پر بوجھ سپریم کورٹ اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز جسٹس گلزار احمد ‏ ایف بی آر ‏
۱۶ دسمبر, ۲۰۱۹ ۶:۱۷ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست  کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ 6 ماہ میں قانون نہ بن سکا تو آرمی چیف ریٹائر ہو جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے آرمی چیف توسیع کیس کا تفصیلی جاری کر دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 42 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک صفحے پر اپنا اٖضافی نوٹ تحریر کیا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے قانون میں آرمی چیف  کی مدت ملازمت میں توسیع کی اجازت  نہیں، ریگولیشن 255 کے تحت وفاقی حکومت کو آرمی چیف کو توسیع  دینے کا اختیار نہیں۔ جنرل  رینک  کی مدت اور توسیع پر کوئی باقاعدہ قانون نہ ہونے پر وزارت دفاع کی سمری کی کوئی حیثیت  نہیں۔

فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ میں سقم کو دور کرنے کے لیے  6 ماہ میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پارلیمان 6 ماہ میں قانون سازی نہ کر سکی  تو صدر مملکت، وزیر اعظم کی سفارش پر حاضر سروس جنرل کو نیا آرمی مقرر کریں گے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے اٹارنی جنرل نے آرمی چیف کی مدت ملازمت، ریٹارمنٹ  کی  عمر، توسیع  کے حوالے سے قانون سازی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ موجودہ آرمی چیف 6 ماہ تک اپنی ذمہ داریاں سر انجام  دیتے رہیں گے۔ نئی قانون سازی آرمی  چیف  کی مدت  ملازمت  اور دیگر شرائط کا تعین کرے گی۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت آرمی  چیف کی  مدت ملازمت کے قواعد و ضوابط واضح کرے، پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 243 کے  دائرہ اختیار  کی بھی وضاحت کرے۔ موجودہ آرمی  چیف  کی مدت ملازمت اور دیگر قواعد و ضوابط  کا انحصار پارلیمنٹ کی قانون سازی پر ہو گا۔

ادھر اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 6 ماہ میں مطلوبہ قانون سازی کر لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا یقین دہانی آرمی ایکٹ میں موجود سقم کو دور کرنے کیلئے کرائی گئی۔ معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں غلطیاں نہ ہوں۔ آئین کے تناظر میں پارلیمان قانون سازی کے ذریعے معاملہ حل کرے۔ قانون میں فوجی جنرل کی مدت ملازمت بیان نہیں کی گئی۔

دوسری طرف چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے کے ساتھ اضافی نوٹ میں لکھا کہ آرمی چیف کےعہدے میں توسیع، دوبارہ تقرری کا کسی قانون میں ذکر نہ ہونا حیرت انگیز تھا۔ اُنہوں نے کہا ملکی آئین کے تحت صدر کے مسلح افواج سے متعلق اختیارات قانون سے مشروط ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ آرمی چیف کا عہدہ کسی بھی عہدے سے زیادہ طاقتور ہے۔ آرمی چیف کا عہدہ اہم حیثیت اور لامحدود اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے غیرمتعین صوابدید خطرناک ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید لکھا پارلیمنٹ میں قانون سازی سے اس بارے میں تاریخی غلطیاں درست کرنے میں مدد ملے گی۔

چیف جسٹس نے اپنے اضافی نوٹ میں برطانیہ کے سابق چیف جسٹس سر ایڈورڈ کوک کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپ جتنے بھی اوپر چلے جائیں قانون آپ کے اوپر ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز