یورپی پارلیمنٹ کا کوئی وفد مقبوضہ وادی کا دورہ نہیں کررہا، تھریسا گریفن کی تصدیق

یورپی پارلیمنٹ ، وفد ، مقبوضہ وادی ، دورہ ، تھریسا گریفن ، تصدیق
۲۹ اکتوبر, ۲۰۱۹ ۹:۰۵ شام

 لندن (92 نیوز) مقبوضہ کشمیر میں سب اچھا دکھانے کے بھارتی ڈھول کا پول کھل گیا۔ یورپی یونین کی ممبر تھریسا گریفن نے تصدیق کر دی کہ یورپی پارلیمنٹ کا کوئی وفد مقبوضہ وادی کا دورہ نہیں کر رہا۔

بھارتی میڈیا گزشتہ دو روز سے ڈھنڈورا پیٹ رہاتھا کہ یورپی پارلیمنٹ کا وفد مقبوضہ کا دورہ کر رہا ہے۔ مقبوضہ وادی کے حالات نارمل ہیں۔ مودی حکومت کی ڈرامے بازی کی ہنڈیا بیچ چورائے یورپی پارلیمنٹ کی رکن نے پھوڑ دی۔

یورپی یونین کی ممبر تھریسا  گریفن نے  تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا یورپی پارلیمنٹ کا کوئی وفد دورہ نہیں کر رہا۔ ان کا اپنے ٹویٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے ممبر مقبوضہ کشمیر کے ذاتی دورے پر گے ہیں جن کی سیاست اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔

تھریسا  گریفن کا یورپی یونین کا موقف بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک مودی حکومت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو نہیں اٹھاتی یورپی یونین کوئی سرکاری دورہ نہیں کرے گی۔

بھارتی اپوزیشن کے بعد ان کے میڈیا نے بھی اس دورے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کے 27 ارکان میں سے 4 نے عین وقت پر مقبوضہ کشمیر جانے سے انکار کر دیا جبکہ مودی حکومت نے یورپی پارلپمنٹ کے ممبر کرس ڈیوس کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت ہی نہیں دی۔ کرس ڈیوز اس گروپ کا حصہ تھے جو مقبوضہ کشمیر گیا لیکن انہیں دعوت ہی نہیں دی گئی۔

دوسری جانب یورپی یونین کے وفد کی مقبوضہ کشمیر آمد پر وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن تھا۔ کرفیو لگا ہوا تھا اور جب وفد سری نگر ائیر پورٹ پر اترا اس وقت سری نگر میں جھڑپیں جاری تھیں ۔ یورپی وفد کو سخت حفاظتی حصار میں ہوٹل پہنچایا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وادی میں سناٹا چھایا ہوا تھا، مقامی افراد نے وفد کا نہ استقبال کیا اور نہ ہی ملاقات کی۔ بھارتی حکام یورپی یونین کو وادی کا دورہ کرانے کی بجائے جھیل کی سیر کراتے رہے۔

تازہ ترین ویڈیوز