گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازموں کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف

اسلام آباد ، وفاقی کابینہ ، بجٹ 19-20 ، گریڈ ، ملازموں ، تنخواہوں ، ایڈہاک ریلیف ، منظوری ، قومی اسمبلی ، اجلاس ، وزیراعظم ، عمران خان ، توانائی ، محصولات ،دفاعی ، راشن کارڈ
۱۱ جون, ۲۰۱۹ ۶:۴۸ شام

اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی کابینہ نے بجٹ 2019-20 میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازموں کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف کی منظوری دے دی۔

قومی اسمبلی کے بجٹ 2019-20 اجلاس کی صدارت اسپیکر اسد قیصر نے کی۔ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے۔ وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے بجٹ 2019-20 پیش کیا۔

 اسلام آباد ، وفاقی کابینہ ، بجٹ 19-20 ، گریڈ ، ملازموں ، تنخواہوں ، ایڈہاک ریلیف ، منظوری ، قومی اسمبلی ، اجلاس ، وزیراعظم ، عمران خان ، توانائی ، محصولات ،دفاعی ، راشن کارڈ

 وفاقی کابینہ نے بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازموں کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف، گریڈ 17 سے گریڈ 20 تک تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ گریڈ 21 سے 22 تک افسروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔

 آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں محصولات کا ہدف پچپن سو ارب روپے مقرر، قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 1800 ارب روپے، انسانی ترقی کیلئے 60 ارب روپے تجویز کیئے گئے۔

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں 80 ارب خرچ کیے جائیں گے۔ سول حکومت کے اخراجات 5 فیصد کمی کے ساتھ 460 ارب روپے مقرر کیئے گئے۔ دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پر برقرار رکھا جائے گا۔ بجلی کی سبسڈی کیلئے 200 ارب روپے مختص کیئے گئےہیں۔

 وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا نئی راشن کارڈ اسکیم شروع کی جارہی ہے۔ 80 ہزار مستحق لوگوں کو ہر ماہ بلا سود قرضے دیئے جائیں گے۔ معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے آلات مہیا کیے جائیں گے۔ عمر رسیدہ افراد کے لیے احساس گھر بنانے کا کام شروع کر دیا۔ 60 لاکھ خواتین کو سیونگ اکاؤنٹ کے حوالے سے سہولیات دی جا رہی ہیں۔

حماد اظہر بولے سابق حکومت نے زیادہ شرح سود پر قرضے لیے۔ ‎  ‏5 سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مجموعی قرضے 31 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے۔ موجودہ حکومت نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا۔ مالیاتی خسارہ 2260 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

 قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے احتجاج کیا اور خوب بھڑاس نکالی ۔ اپوزیشن ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے۔ ایوان میں شور شرابا اور نعرے بازی کی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی بھی اجلاس میں شرکت ہوئی۔ ادھر وزیراعظم کی ایوان میں آمد پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔

 نئے بجٹ میں نئے ٹیکس بھی لگ گئے۔ عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھ گیا۔ دودھ، کریم اور فلیورڈ ملک پر 10 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا۔

اسلام آباد ، وفاقی کابینہ ، بجٹ 19-20 ، گریڈ ، ملازموں ، تنخواہوں ، ایڈہاک ریلیف ، منظوری ، قومی اسمبلی ، اجلاس ، وزیراعظم ، عمران خان ، توانائی ، محصولات ،دفاعی ، راشن کارڈ

چینی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد سے 17 فیصد کر دیا گیا جس سے فی کلو ساڑھے 3 روپے کا اضافہ ہو گیا۔ خوردنی تیل اور گھی پر بھی ٹیکس ڈیوٹی بڑھا کر 17 فیصد کردی گئی۔ چکن، بیف، مٹن اور مچھلی سے تیار اشیا پر 17 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا۔

اسلام آباد ، وفاقی کابینہ ، بجٹ 19-20 ، گریڈ ، ملازموں ، تنخواہوں ، ایڈہاک ریلیف ، منظوری ، قومی اسمبلی ، اجلاس ، وزیراعظم ، عمران خان ، توانائی ، محصولات ،دفاعی ، راشن کارڈ

حماد اظہر کہتے ہیں سگریٹ پر مزید ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسلام آباد ، وفاقی کابینہ ، بجٹ 19-20 ، گریڈ ، ملازموں ، تنخواہوں ، ایڈہاک ریلیف ، منظوری ، قومی اسمبلی ، اجلاس ، وزیراعظم ، عمران خان ، توانائی ، محصولات ،دفاعی ، راشن کارڈ

 اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا گیا۔ ایک ہزار سی سی تک گاڑی پر ڈھائی فیصد ایف ای ڈی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 2 ہزار سی سی کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 5، جبکہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر 7.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

 آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں جوسز پر 5 فیصد ڈیوٹی، سیمنٹ پر ایف ای ڈی بڑھا کر 2 روپے کر دی گئی۔ موبائل فون، بیکری اشیا، اینٹوں، کاغذ اور دواؤں سمیت کئی اشیا سستی بھی ہوگئیں۔ موبائل فون درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ، براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔

 اینٹ کے بھٹوں پر ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے فکس کیا جائے گا۔ کاغذ پر ڈیوٹی 20 سے 15 فیصد، خام مال پر امپورٹ ڈیوٹی نہیں ہو گی۔ دواؤں کیلئے استعمال ہونے والی 19 اشیا پر 3 فیصد ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔

 کم ازکم اجرت ساڑھے 17 ہزار روپے ماہانہ مقرر، پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ن فائلر پر 50 لاکھ سے زائد کی جائیداد کی خریداری پر پابندی ختم ، جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں کہا جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد برقرار رہے گی، این ایل جی پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی کی تجویز ہے۔ قریبی رشتہ داروں سے تحائف کو ٹیکس استثنیٰ ہو گا۔ کمپنیوں کیلئے ٹیکس ریٹ 2 سال تک 29 فیصد رہے گا۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گی اہے اور غیرتنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی حد 4 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے ہو گی۔ 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر ٹیکس سلیب کی تعداد 11 کر دی گئی۔ 6 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 5 سے 35 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا۔

حماد اظہر کا کہنا ہے خام مال کی درآمد کیلئے 124 ارب کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے خام مال ٹیکس ڈیوٹی سے مستثنیٰ اور نئے گریجوایٹس کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے والے افراد کو ٹیکس ری بیٹ دیا جائے گا۔

 وزارت موسمیاتی تبدیلی اور کابینہ ڈویژن کا بجٹ بڑھا کر اربوں میں کر دیا گیا۔ قومی صحت کا بجٹ تین ارب اٹھارہ کروڑ سے بڑھا کر تیرہ ارب سینتیس کروڑ، تعلیم کا بجٹ دو ارب انسٹھ کروڑ سے بڑھا کر چار ارب چوراسی کروڑ کرنے کی تجویز ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا بجٹ پچھہتر کروڑ سےبڑھا کر چھ ارب تئیس کروڑ، قبائلی علاقوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، آبی ذخائر، کراچی، کوئٹہ کیلئے بھی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز