کلبھوشن یادو کیس میں پاکستان آج عالمی عدالت میں حتمی دلائل دیگا


کلبھوشن یادو
۲۱ فروری, ۲۰۱۹ ۸:۵۵ دن

دی ہیگ ( 92 نیوز) کلبھوشن یادو کیس  میں پاکستان آج عالمی عدالت میں حتمی دلائل دیگا ۔

تیسرے روز کیس کی سماعت کے دوران بھارتی وکیل نے بھی  تسلیم کرلیا کہ حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے پاسپورٹ بنوایا گیا لیکن اس پر سزائے موت نہیں ہوسکتی، ریلیف چاہتے ہیں معاملہ سول عدالت کو بھجوا دیا جائے۔

کلبھوشن یادو کیس میں بھارت کو ہر لمحہ خفگی کا سامناکرنا پڑ رہا ہے جب کہ   ذلت اس کا مقدر بن گئی ہے  بھارتی وکیل بوکھلا گیا، جواب الجواب میں بھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ۔

بھارتی وکیل نے پلوامہ حملہ کا ذکر چھیڑا جبکہ ایران حملے میں ملوث قرار دینے کی کوشش کی۔ جھوٹ اور فریب سے دل نہ بھرا تو شواہد اور فیصلے کی نقول فراہم نہ کرنے کا الزام لگا دیا۔

دلائل میں پاکستان کی فوجی عدالتوں پر تنقید کی، پھر وہی پرانی باتیں دہرا دیں۔ بینک اکاؤنٹ میں پنشن کے پیسے آنے سے بھی مکر گیا۔

پہلے پاسپورٹ کے معاملہ پرجواب دینے سے گریز کیا، کچھ نہ بن سکا تو موقف اپنایا کہ اگر حسین مبارک کے  جعلی نام سے بنایا گیا  پاسپورٹ  بھی ہو تو تب بھی موت کی سزا نہیں ہو سکتی۔

آخر کار ریلیف کی اپیل کر ہی دی، قونصلر تک رسائی مانگی اور معاملہ سول عدالت کو بھیجنے کی استدعا کر دی۔

دوسری جانب عالمی عدالت نے ایڈہاک جج جسٹس تصدق حسین جیلانی کو تبدیل کرنے کی استدعا پر فیصلہ سناتے ہوئے کلبھوشن کیس میں  جسٹس تصدق حسین جیلانی کو بنچ کا حصہ قرار دیدیا ہے۔

عدالت کے مطابق جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس کیس کی کارروائی میں حصہ لیا، ان کو ٹرانسکرپٹ بھجوائے جا رہے ہیں اور ویڈیو لنک دستیاب ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز